Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
273 - 784
 ہمیشہ متوجہ رہنے کی وجہ سے مخلوق کو دیکھنا بھول جائے۔“
	اس قول میں صرف آفَتِ ریا کی طرف اشارہ ہے، اسی وجہ سے ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:
(7)…عمل میں اخلاص یہ ہے کہ شیطان اس پر مطلع نہ ہوکہ بگاڑ پیدا کرسکے اورفَرِشتے کو خبرنہ  ہو کہ اسے لکھ لے ۔(1)
	اس قول میں صرف عمل کو چھپانے کی طرف اشارہ ہے ۔
مخلوق سے مخفی ،علائق سے پاک:
(8)…ایک قول یہ بھی ہے کہ”اِخلاص وہ ہے جو مخلوق سے مخفی اور علائق سے پاک  صاف ہو۔“
	یہ قول مقاصد کو جامع ہے۔(2)
(9)…حضرت سیِّدُناحارِث بن اَسَدمُحاسِبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:”اِخلاص یہ ہے کہ مخلوق کو ربعَزَّ  وَجَلَّ کے معاملے سے نکال دے۔“	اس قول میں صرف ریاکی نفی کی طرف اشارہ ہے۔
ریاست کا جام :
(10)…حضرت سیِّدُنا ابرہیم خوّاصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”جس نے ریاست کے جام سے پیا وہ عُبُودِیَّت(بندگی) کے اخلاص سے نکل گیا۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…یہ قول سیِّدُالطائِفہ حضرت سیِّدُنا جُنَیْدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کا ہے۔حضرت سیِّدُنا اُستادابُوالْقَاسِم قشیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی  کے ہاں ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ حضرت سیِّدُنا جُنَیْدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے فرمایا:اِخلاص اللہعَزَّ  وَجَلَّاوربندے کے درمیان ایک رازہے۔اسے فِرِشتہ نہ جانےکہ لکھ لےاور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیداکرے اور خواہِشِ نفس کوبھی اس کاعلم نہ ہو کہ اسے اپنی طر ف مائل کرے۔(الرسالة القشیریة،ص۲۴۴)اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ان چیزوں میں کوئی بھی شے ایسی کیفیت وحالت والے شخص کے دل پراثر انداز نہ ہواوریہ حالت وکیفیتاللہعَزَّوَجَلَّاپنے خاص اولیاہی کوعطافرماتا ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۳/۱۰۴،ملخصًا)
2…شارح اِحْیَآءُ الْعُلُوْمعلامہ سیِّدمحمدمُرتضٰی زَبَیْدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں :یہ اس لئے جامع ہے کہ پہلا جُز چھپانے اور دوسرا فوائد ختم کرنے کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ پہلے میں ریاسے سلامتی جبکہ دوسرے میں خواہِش سے سلامتی ہے اوراِخلاص کی حقیقت ان دونوں سے سلامتی ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۳/۱۰۴،ملخصًا)