شخص اس لئے عبادت کرے کہ جنت کی لذّتوں سے نفس کو سکون ملے گاتو وہ آفت زدہ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمل سے مقصود صرف رضائے الٰہی ہواوریہ صِدِّیْقِیْن کے اِخلاص کی طرف اشارہ ہے اور اسی کو اخلاصِ مطلق کہتے ہیں۔تو جو شخص امیدِ جنت اور خوفِ جہنم کی وجہ سے عمل کرتا ہے وہ دنیاوی فوائد کے اعتبار سے مُخلِص ہے ،ورنہ در حقیقت وہ پیٹ اور شرم گاہ کے فوائد کا طالب ہے اور عقل مندوں کا مقصودِ حقیقی تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا ہے۔
خاص لوگو ں کامقصود:
اگر کوئی یہ کہے کہ انسان کسی نہ کسی فائدے کے لئے حرکت کرتا ہے اور تمام فوائد سے مُنَزہ ہونا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صِفَت ہے اور جو اس کا دعوٰی کرے وہ کافر ہے ۔اسی لئے حضرت سیِّدُناامام قاضی ابوبکر باقِلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ایسے لوگوں پر کفر کا حکم لگایا جو تمام فوائدواَغراض سے پاک ہونے کا دعوٰی کرتے تھے اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”یہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صِفات میں سے ہے۔“
ہم کہیں گے کہ حضرت سیِّدُناامام قاضی ابوبکرباقِلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے بالکل ٹھیک فرمایاہے لیکن (فوائدواَغراض سے پاک ہونے سے) لوگوں کی مرادیہ ہے کہ ان فوائدواَغراض سے پاک ہوں جنہیں لوگ فوائدواَغراض کہتے ہیں اور وہ جنت کی خواہشات اور لذّات ہیں۔جہاں تک صرف مَعْرِفَت،مُناجات اور دیدارِالٰہی سے لطف اندوز ہونے کا تعلُّق ہے تو یہ خاص لوگوں کی غَرَض اور فائدہ ہے عام لوگ اس کو غَرَض اور فائدہ شمار نہیں کرتے بلکہ وہ اس پر تعجب کرتے ہیں جبکہ اُن لوگوں کا حال یہ ہے کہ اِطاعت،مُناجات اور بارگاہِ ربُّ الْعِزت کی سِری اور جَہْری دائمی حاضری کی جو لذّت انہیں حاصل ہے اگر اس کے بدلے میں جنت کی تمام نعمتیں انہیں دے دی جائیں تو وہ اسے حقیرسمجھیں گےاور اس کی طرف توجہ تک نہیں کریں گےتو عام لوگوں کی حرکت کسی غَرَض کے لئے اور طاعت بھی کسی غَرَض وفائدے کے لئے ہوتی ہے لیکن خاص لوگوں کی غَرَض اور مقصود صرف ان کا معبودعَزَّ وَجَلَّہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
ہمیشہ کی توجہ:
(6)…حضرت سیِّدُناابوعُثمان نیشا پوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:”اخلاص یہ ہے کہ فقط خالق کی طرف