تیسری فصل: اِخلاص کے بارے میں 14اَقوال بُزُرگانِ دِین
اخلاص کو اخلاص کی ضرورت:
(1)…حضرت سیِّدُناابویعقوب سُوسِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:”اِخلاص یہ ہے کہ اِخلاص نظر نہ آئے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص تلاش کرتاہے اس کے اخلاص کو بھی اخلاص کی ضرورت ہے ۔“
اس قول میں اس طرف اشارہ ہےکہ عمل کوعُجب(خودپسندی)سےپاک صاف رکھاجائےکیونکہ اخلاص کی طرف اِلتفات اور نظر کرنا عجب ہے جو کہ جملہ آفات میں سے ایک آفت ہے اور خالص عمل وہی ہے جو تمام آفات سے پاک صاف ہو۔پس اس(عجب والے)اخلاص میں ایک آفت ہے۔
اخلا ص کے متعلق جامع قول:
(2)…حضرت سیِّدُناسہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اِخلاص یہ ہے کہ بندے کا ٹھہرنااور حرکت کرنا سب خالصتاًاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہو۔
یہ قول جامع اور مقصد کا اِحاطہ کئے ہوئے ہےاور اسی کے ہم معنیٰ حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کایہ قول ہے:
(3)…آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اِخلاصاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ صِدْقِ نیت کا نام ہے۔
نفس پر سب سے بھاری:
(4)…حضرت سیِّدُناسہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسےعرض کی گئی: کون سی چیزنفس پر زیادہ بھاری ہے؟ فرمایا:اِخلاص کیونکہ نفس کااس میں کوئی حصہ نہیں۔
(5)…حضرت سیِّدُناابومحمدرُوَیْم بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:”عمل میں اخلاص یہ ہے کہ عمل کرنے والا دنیاو آخرت میں عمل کا کوئی عِوَض(بدلہ) نہ چاہے ۔“
اخلاصِ مطلق کسے کہتے ہیں؟
مذکورہ قول اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام نفسانی فوائد خواہ دنیوی ہوں یااخروی آفت ہیں اور جو