Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
270 - 784
	افسوس !اس مسکین کو یہ معلوم نہیں کہ حق کی اِتِّباع کرنے اور وعظ کا کام اپنے سے افضل اور اَعْلَم کے سِپُرد کردینے میں اُخروی ثواب زیادہ ہے بَنِسْبَت اس کے کہ تنہا خود کرے۔کاش !کوئی مجھے بتائے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اگرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصِدِّیْق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت پر غمگین ہوتے تو آیا یہ غم کرنا اچھا ہوتا یا قابلِ مذمت؟بلاشبہ ہر دین دار آدمی کہے گا کہ”بالفرض امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایسا کرتے تو یہ ایک مذموم کام ہوتا کیونکہ ان کا خود لوگوں کے مصالح کی ذمہ داری اٹھانا اگرچہ بہت بڑا کارِ ثواب  ہوتا لیکن ان کا حق کے سامنے سر تسلیْمِ خم کرنا اور امورِ خلافت اپنے سے افضل کے حوالے کرنا دینی اعتبار سے زیادہ بہترہوتا ۔“بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس بات سے خوش ہوئے کہ جو ذات ان سے اعلیٰ و افضل ہے اس نے تنہا یہ ذمہ داری اٹھائی ۔
اہل علم شیطان کے دھوکے میں:
	عُلَما کو کیا ہوا وہ ایسی باتوں پر خوش کیوں نہیں ہوتے؟(کہ میری جگہ کوئی اوریہ  دینی کام کر لے)۔بسا اوقات کچھ اہْلِ علم شیطان کے دھوکے میں آکر اپنے دل میں کہتے ہیں کہ”اگر کوئی ہم سے بڑا عالِم آئے گا تو اس سے ہمیں خوشی ہوگی۔“ لیکن امتحان اور تجربہ سے قبل اپنے بارے میں ایسی بات کہنا محض جہالت اور دھوکا ہے کیونکہ معاملہ درپیش ہونے سے پہلے اس طرح کے وعدے کرنے میں نفس بڑی آسانی سے تابعداری کرتا ہے لیکن جب معاملہ آ پڑتا ہے تو بدل جاتا ہے اور وعدہ پورا نہیں کرتااوریہ بات وہی جان سکتا ہے جونفس و شیطان کی مکاریوں اور فریب کاریوں سے آگاہ ہواوران کی آزمائشوں کا طویل تجربہ رکھتا ہو۔اَلْغَرَض اخلاص کی حقیقت کو پہچاننااوراس پر عمل کرنا ایک گہرا سمندر ہے جس  میں سب لوگ ڈوب جاتے ہیں،شاذ ونادر ہی کوئی بچتا ہے اور اسی کا استثنا اس فرمانِ باری تعالیٰ میں ہے:
اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ ﴿۸۳﴾ (پ۲۳،ص:۸۳)	ترجمۂ کنز الایمان:مگرجوان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔
	لہٰذابندے کو چاہئے کہ ان دقائق کی خوب تلاش اور چھان بین کرے ورنہ شیطان کے گروہ میں جا ملے گا اور اسے خبر بھی نہیں ہوگی۔