Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
27 - 784
محبت کی زیادتی اور قوت:
	اگر یہ تمام اسبابِ محبت ایک ہی شخص میں جمع ہوجائیں تو لازمی طور پر محبت بڑھ جائے گی جیسے کسی انسان کاکوئی خوب صورت، خوش اخلاق، کامل عالِم، مُدبّر(اچھی تدبیر والا)، مخلوق کاخیر خواہ  اوروالد کاتابع وفرمانبردار بیٹا ہو تو لازمی طور پر وہ انتہا ئی محبوب ہوگا اور ان اوصاف کے جمع ہونے کی صورت میں محبت کی قوت اسی قدر زیادہ ہوگی جس قدر یہ اوصاف قوی ہوں گے۔ اگر یہ صفات کمال کے انتہائی درجہ کو پہنچی ہوں گی تو لازمی طور پر محبت بھی اعلیٰ درجے پر ہوگی۔ اب ہم بیان کرتے ہیں کہ محبت کے ان تمام اسباب کا اجتماع اور کمال صرف ذاتِ باری تعالٰی میں ہوسکتا ہے لہٰذا حقیقی طور پر محبت کا مستحق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے۔
تیسری فصل:			اس بات کا بیان کہ محبت کا مستحق
صرف اللہ تعالٰی ہے
صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےمحبت:
	محبت کی مستحق صرف ذاتِ باری تعالٰی ہے اورجو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کسی سے محبت کرے۔ اس حیثیت سے کہ اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کوئی نسبت نہ ہو تو یہ محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت سے ناواقفی اورکوتاہی پرمبنی ہوگی اور رسولِ اکرم ،شاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت محمود ہے کیونکہ یہ عین محبتِ الہٰی ہے۔ یوں ہی علمائے کرام اورمتقی لوگوں سے محبت کرنے کا معاملہ ہے کیونکہ محبوب کا محبوب، محبوب کاقاصد اور محبوب کا محب سب محبوب ہوتے ہیں اور سب سے محبت کی بنیاد اصل سے محبت کرنا ہے۔ لہٰذا یہ محبت غیر کی طرف تجاوز نہیں کرے گی۔ اربابِ بصیرت کے ہاں حقیقی محبوب صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات ِپاک ہے اور اس کے سوا کوئی محبت کا مستحق نہیں۔
وضاحت:
	مذکورہ بات کی وضاحت یہ ہے کہ محبت کے جو پانچ اسباب ہم بیان کرچکے ہیں ان کی طرف دوبارہ جاتے ہیں اوریہ  ثابت کرتے ہیں کہ وہ تمام اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات میں جمع ہیں اور دوسروں میں وہ انفرادی طور پر پائے