وَ بَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا (پ۲۴،الزمر:۴۸،۴۷)
ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں۔
(2)…قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیۡنَ اَعْمَالًا ﴿۱۰۳﴾ؕ اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿۱۰۴﴾ (پ۱۶،الکھف:۱۰۴،۱۰۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤکیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اوروہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں۔
واعظین شیطان کے جال میں:
بندوں میں سب سے زیادہ اس فتنے کا شکارعُلَما ہیں کیونکہ اکثرعُلَما کے لئے علم پھیلانے کا باعث غلبے کی لذت، پیشوابننے کی فرحت اور اپنی تعریف و ثنا سے خوشی وراحت وغیرہ ہوتاہے اور شیطان ان سےحق بات کومخفی رکھ کر کہتا ہے:”تمہاری غرض تو دیْنِ الٰہی کی نشر و اِشاعت اوررسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شریعت کا مخالفین سے دفاع کرنا ہے۔“اسی طرح واعظ کو دیکھ لو کہ بادشاہوں اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر احسان جتاتا ہے اوراس پر خوش ہوتا ہے کہ لوگ اس کی بات مانتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ دعوٰی کرتا ہے کہ” میری خوشی کا سبب یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دین کی مدد میرے لئے آسان کر دی ہے۔“ حالانکہ اگر اس کا کوئی ہم عصر اس سے اچھا وعظ کرنے والا ظاہر ہوجائے اور لوگ اسے چھوڑ کر اُس کی طرف متوجہ ہوجائیں تو یہ بات اسے بُری لگتی ہے اور وہ غم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اگروعظ کا باعث صرف دین ہوتا تو وہ ضرور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتا کہ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ کام کسی اور سے لے لیا۔“پھر اس کے باوجود شیطان اسے نہیں چھوڑتا اور کہتا ہے:”تمہیں اس وجہ سے غم نہیں کہ لوگ تمہیں چھوڑ کر دوسرے واعظ کی طرف چلے گئے بلکہ تمہارا غم اس وجہ سے ہے کہ تمہارا ثواب ختم ہوگیا کیونکہ اگر لوگ تمہارے وعظ سے نصیحت پکڑتے تو تمہیں ضرور ثواب ملتا اور ثواب فوت ہونے کی وجہ سے تمہارا غمگین ہونا اچھی بات ہے ۔“