Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
268 - 784
 و سکنات میں اس کی نیت درست ہوگی۔مثلاً: اگر وہ نفس کو آرام پہنچانے کے لئے سوئے تا کہ عبادت پر قوت حاصل ہو تو اس کا سونا بھی عبادت ہوگا اور اس میں اسے مخلصین کا درجہ حاصل ہوگااور جس شخص کا حال اس طرح نہ ہو اس پر اعمال میں اخلاص کا دروازہ بندرہتا ہے ،البتہ ! کبھی کبھار کھلتا بھی ہےاور جس طرح وہ شخص کہ جس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور آخرت کی محبت غالب ہو تو اس کی تمام حرکات یہ صِفَت حاصل کر کے اخلاص بن جاتیں ہیں اور اسی طرح جس شخص کے دل پر دنیا ،برتری ، ریاست یا اور کوئی چیز غالب ہو تو اس کی تمام حرکات میں بھی وہی صِفَت پیدا ہوجاتی ہے،تو اس کی عبادات،نماز روزہ وغیرہ بہت کم سلامت رہتے ہیں۔
	معلوم ہوا کہ اخلاص پانے کا نسخہ یہ ہے کہ نفسانی فوائد کو توڑ دے، دنیا سے طمع(لالچ)ختم کر دے، صرف آخرت مدِّنظررکھے۔ اس طرح کہ وہی دل پر غالب ہو تب کہیں اخلاص میسر ہوگا اور بہت سے اعمال ایسے ہیں جن میں انسان مشقت اٹھاتا ہے اور انہیں خالص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے گمان کرتا ہے حالانکہ وہ دھوکے میں ہوتا ہے کیونکہ وہ ان میں آفت کی کوئی وجہ نہیں سمجھتا۔چنانچہ،
30 سال کی نمازیں دہرائیں:
	ایک  بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں نے30سال کی نمازیں دہرائیں جو میں نے مسجد کی پہلی صف میں ادا کی تھیں کیونکہ ایک دن کسی عذر کی بناپر میں دیر سے پہنچا اور میں نے دوسری صف میں نماز پڑھی تو مجھے لوگوں سے بہت شرم آئی کہ انہوں نے مجھے دوسری صف میں دیکھا۔اس سے میں جان گیا کہ لوگوں کا مجھے پہلی صف میں دیکھنا میری خوشی اور قلبی راحت کا سبب تھا لیکن مجھے اس کی خبر نہیں تھی ۔
	یہ بہت باریک اور پیچیدہ بات ہے کہ اعمال اس جیسی باتوں سے بہت کم محفوظ ہوتے ہیں اور بہت کم لوگ اس سے آگاہ ہوتے ہیں مگر جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّتوفیق دے وہ خبردار ہوجاتے ہیں اور جو لوگ اس سے غافل ہیں وہ قیامت کے دن اپنی تمام نیکیوں کو گناہوں کی صورت میں پائیں گے۔درج ذیل آیاتِ طَیِّبَہ سے یہی لوگ مراد ہیں:
(1)…
وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾		ترجمۂ کنز الایمان:اورانہیں اللہکی طرف سے وہ بات