ہوا ہے ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس کا کوئی فعل یا اس کی کوئی عبادت اس جنس کے فوائد اور اغراض سے خالی ہو ،اسی لئے کہا گیا ہے کہ’’جس شخص کو زندگی میں ایک لحظہ(لمحہ) خالص رضائے الٰہی کے لئے مل گیا وہ نجات پا گیا۔“اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاص نادرہے اور دل کو ان آمیزشوں سے صاف کرنا انتہائی مشکل ہے بلکہ خالص وہی ہے جس کے عمل کا باعث صرف قُربِ الٰہی کی طلب ہو ۔
عمل ہر آمیزش سے خالی ہو:
اگر تنہا یہ امورعمل کا باعث ہوں تو ظاہر ہے کہ ایسے عامل کا معاملہ انتہائی سخت ہوگا لیکن ہماری نظر ان صورتوں میں ہے کہ جن میں قصدِ اصلی تو تَقَرُّب اِلَیاللہ(یعنی اللہعَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانا) ہے لیکن اس کے ساتھ ان امور کی بھی آمیزش ہوجائے ۔پھر یہ آمیزشیں یا تو موافقت کے رتبے میں ہوں گی یا مشارکت کے درجے میں یا پھر مُعاوَنت کے طور پرجیسا کہ نیت کے بیان میں گزرااور باعِثِ نفسی یا تو باعِثِ دینی کی مثل ہوگا یا اس سے قوی یا اس سے کمزور۔ان میں سے ہر ایک کا علیحدہ حکم ہے جیسا کہ ہم بیان کریں گےاور اخلاص تو یہی ہے کہ عمل ان تمام آمیزشوں سے خالی ہو خواہ یہ آمیزشیں کم ہوں یا زیادہ حتّٰی کہ اس میں صرف تَقَرُّب کا قصد ہو اور اس کے سوا کوئی اور عمل کا باعث نہ ہو ۔
یہ بات اسی شخص کے لئے ممکن ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکا محب، اس کا عاشق اورفکرِ آخرت میں اس طرح ڈوبا ہوا ہو کہ اس کے دل میں محبَّتِ دنیا کی کوئی گنجائش نہ ہو یہاں تک کہ کھانے پینے سے بھی محبت نہ ہو ،بلکہ اس کی رغبت اسے ایسے ہی ہو جیسے قضائے حاجت کی رغبت ہوتی ہے کہ یہ ایک فطری اور طبعی ضرورت ہے۔ پس اسے کھانے کی رغبت اس لئے نہ ہو کہ وہ کھانا ہے بلکہ اس لئے ہوکہ عبادتِ الٰہی پر قوت حاصل ہوگی اور تمنا کرے کہ ” کاش!بھوک کی آفت سے بے نیاز ہوجاؤں تا کہ کھانے کی حاجت نہ پڑے۔“اور اس کے دل میں ضرورت سے زائد کسی امْرِ فضول کی جگہ نہ رہے اور اس کے نزدیک قدرِ ضرورت ہی مطلوب ہو کیونکہ یہ اس کی دینی ضرورت ہے ،اس کی فکر اورتوجہ صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف ہو ۔
مخلص بندے کا سونا بھی عبادت:
اس طرح کا شخص اگر کھائے،پیئےیاقضائے حاجت کرے تو اس کا عمل خالص ہی رہے گا اورتمام حرکات