Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
266 - 784
تقریر کی لذت سے غم دور ہوں ۔(۸)…عُلَما و صُوفِیا کی خدمت بجا لائے تاکہ ان کی اور دیگر لوگوں کی نظروں میں اس کی عزت بڑھ جائے یایہ چاہتا ہو کہ دنیا میں اس کے ساتھ نرمی برتی جائے۔(۹)…قرآنِ پاک کی کتابت کرے تاکہ باربار لکھنے سے اس کا خط اچھا ہوجائے۔(۱۰)…پیدل حج اس لئے کرے تاکہ کرائے کا بوجھ کم ہوجائے۔(۱۱)…وضو اس لئے کرے تا کہ بدن صاف یا ٹھنڈا ہوجائے۔(۱۲)…غسل کرے تاکہ بدبو دور ہوجائے ۔(۱۳)…حدیث  شریف کی روایت اس لئےکرے تا کہ لوگوں کو اس کی عُلُوِّ سند کا علم ہوجائے۔ (۱۴)… مسجد میں اس لئےقیام کرے تا کہ گھر کے کرائے کا بوجھ نہ پڑے ۔(۱۵)… روزہ اس لئے رکھے تا کہ کھانا پکانے کے تکلُّف سے آسانی ہویا اپنے دیگر کاموں کے لئے فارغ ہوجائے تا کہ کھانے کی وجہ سے ان میں خلل نہ ہو ۔(۱۶)… کسی مانگنے والے کو اس لئے صدقہ دے تاکہ اس کے مانگنے سے پیدا ہونے والا ملال اور پریشانی خود سے دور کرے ۔(۱۷)… کسی مریض کی عیادت اس لئے کرے کہ جب یہ بیمار ہو تو اس کی بھی عیادت کی جائے ۔(۱۸)…کسی جنازہ کے ساتھ اس لئے جائے تاکہ لوگ اس کے اہل و عیال کے جنازے کے ساتھ بھی جائیں۔(۱۹)…مذکورہ افعال میں سے کوئی کام اس لئے بجا لائے تاکہ اس کی پہچان بھلائی کے ساتھ ہو اور بھلائی کے ساتھ اس کا ذکر کیا جائے اوراس کی طرف وقار اور اچھی نظر سے دیکھا جائے ۔
	ان تمام صورتوں میں اگر عمل کا باعث قُربِ الٰہی ہو لیکن ان خطرات میں سے کوئی خطرہ بھی اس کے ساتھ مل جائے حتّٰی کہ ان امور کی وجہ سے عمل کرنا اس کے لئے آسان ہوجائے تو اس کا عمل حَدِّ اخلاص اور محض اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہونے سے نکل جائے گا اور اس میں شرک راہ پائے گااورحدیْثِ قُدسی ہے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:اَنَا اَغْنَی الشُّرَکَآءِ عَنِ الشِّرْکَةِیعنی میں شرکت سے تمام شُرکا کی نسبت زیادہ بےنیاز ہوں۔(1) 
ایک لمحے کا اخلاص نجات کا باعث:
	حاصِلِ کلام یہ ہے کہ دُنیاوی فوائد میں سے ہر وہ فائدہ جس سے نفس کو سکون ملے اور دل اس کی طرف مائل ہو خواہ وہ(دُنیاوی فائدہ) تھوڑا ہو یا زیادہ جب وہ عمل میں داخل ہوگا تو اس کی وجہ سے عمل کی صفائی میں گدلا پن آجائے گا اور اخلاص جاتا رہے گا اور انسان اپنے فوائد کے ساتھ جڑا ہوااور اپنی خواہشات میں ڈوبا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…مسلم، کتاب الزھد، باب من اشرک فی عملہ غیر اللّٰہ،ص۱۵۹۴، حدیث:۲۹۸۵