راضی رہ اور جوعمل تُو اس کے لئے کرتا ہے اس میں اخلاص پیدا کراگر تو ان دونوں باتوں پر عمل پیرا رہاتو دونوں جہاں میں کامیاب ہوگا ۔
دوسری فصل: اخلاص کی حقیقت کا بیان
اِخلاص کا معنیٰ ومفہوم:
جان لیجئےکہ ہرچیزمیں غیرکی آمیزش ہوسکتی ہے اورجب وہ چیزغیرکی آمیزش سےپاک صاف ہوتو اس کو خالص کہتے ہیں اور جس فعل سے چیز کی مِلاوَٹ وآمیزش دور کی جاتی ہے اسے اخلاص کہتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
مِنۡۢ بَیۡنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾ (پ۱۴،النحل:۶۶)
ترجمۂ کنز الایمان:گوبراورخون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لئے۔
دودھ کا خالص ہونا یہی ہے کہ اس میں خون اور گوبر کی آمیزش نہ ہونیز ہر وہ شے جس کااس سے اختلاط ممکن ہے اس کی آمیزش نہ ہو۔
لفظ ”اخلاص“اور” مخلص “کا استعمال:
اخلاص کی ضد اشراک(شریک بنانا)ہے تو جومخلِص نہیں وہ مشرِ ک(یعنی شریک بنانے والا)ہے البتہ شرک کے کچھ درجات ہیں۔ توحید میں اخلاص کی ضد اُلُوْہِیَّت میں شریک ٹھہرانا ہے۔ کوئی شرکِ خفی ہوتا ہے اور کوئی ظاہرو جلی اور یہی معاملہ اخلاص کا ہے ۔اخلاص اور اس کی ضد دونوں دل پر وارد ہوتے ہیں ان کا محل دل ہے اور یہ واردہونا قصدو نیت میں ہوتا ہے اور ہم نیت کی حقیقت بیان کرچکے ہیں اور یہ بات بھی بیان کر چکے ہیں کہ نیت باعث کے موافق ہوتی ہے،لہٰذا جب باعث خالی ایک ہو تو اس کی وجہ سے صادر ہونے والے فعل کو اخلاص کہا جائے گا۔مثلاً کوئی شخص صدقہ کرے اور اس کی نیت محض ریا کی ہو تو اس لحاظ سے وہ مخلص ہے اور جس کی غرض محض تَقَرُّب اِلَیاللہ(یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانا) ہو وہ بھی اس اعتبار سے مخلص ہے ۔لیکن عرف میں لفظ’’اخلاص‘‘ اسی فعل کے لئے بولا جاتا ہے جو صرف تَقَرُّب اِلَیاللہ کی نیت سے ہو اور اس میں کسی