عالی سند کے ساتھ 70یا700احادیث لکھنے سے بہتر عمل:
(13)…حضرت سیِّدُناسَری سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:تمہارا خلوت میں اخلاص کے ساتھ دو رکعت پڑھنا70یا700 احادیث عُلُو(عالی) سند(1) کے ساتھ لکھنے سے بہتر ہے۔
(14)…ایک بزرگ فرماتے ہیں:گھڑی بھر کے اخلاص میں اَبَدی نجات ہے لیکن اخلاص نادر ہے۔
بیج،کھیتی اور پانی:
مقولہ ہے:اَ لْعِلْمُ بَذْرٌوَّالْعَمَلُ زَرْعٌ وَّمَآؤُہُ الْاِخْلَاصُ یعنی علم بیج، عمل کھیتی اوراخلاص اس کا پانی ہے۔
تین عطائیں تین محرومیاں:
(15)…ایک بزرگ فرماتے ہیں:جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی بندے کو ناپسند فرماتا ہے تو اسے تین چیزیں عطافرما کرتین چیزوں سے محروم کردیتا ہے:(۱)…صالحین کی صحبت عطافرماتا ہے لیکن ان کی بات قبول کرنے سے محروم کردیتا ہے(۲)…اعمالِ صالحہ کی توفیق بخشتا ہے لیکن اخلاص سے محروم فرمادیتا ہے(۳)…حکمت عطا فرماتا ہے لیکن صِدْق سے محروم کر دیتا ہے۔
(16)…حضرت سیِّدُناابویعقوب سُوسِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:اعمال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّمخلوق سے صرف اخلاص چاہتا ہے۔
(17)…حضرت سیِّدُناجُنَیْدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کچھ سمجھ دار بندے ہیں، وہ سمجھ داری کا مظاہر کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہیں تواخلاص ہی انہیں نیکیوں پراُبھارتا ہے۔
تمام معاملات کی بنیاد:
(18)…حضرت سیِّدُنا محمد بن سعیدمَروَزِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:تمام معاملات کی بنیاد دوباتیں ہیں: (۱)…اللہ عَزَّ وَجَلَّکا تیرے بارے میں فیصلہ فرمانااور(۲)…تیرااس کے لئے عمل بجالانایعنی تُواس کی مَشِیَّت پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…علوکے لغوی معنیٰ’’بلندی‘‘کے ہیں اور اصطلاح میں اس سے مراد وہ سند جس کے راویوں کی تعداددوسری حدیث کے راویوں کی تعداد سے کم ہو۔(نزھة النظر فی توحیح نخبة الفکر،ص۱۱۵،ملخصًا)