کا کوئی بھائی جو ابدال میں سے تھاان کے پاس آیااور ان کے کان میں کچھ سرگوشی کی توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:نہیں!تو وہ بادلوں کی طرح زمین کو چھوتا ہوا چلا گیا یہاں تک کہ میری نظروں سے غائب ہوگیا، میں نےعرض کی:اس نےآپ سےکیاکہاتھا؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:یہ مجھ سےپوچھ رہاتھاکہ میرے ساتھ حج کروگے،میں نےکہا:نہیں۔بزرگ فرماتےہیں:میں نےعرض کی:آپ نےانکارکیوں کیا؟تو حضرت ابوعبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میری حج کی نیت نہیں بلکہ شام تک زمین کا کام پورا کرنے کی نیت تھی تو مجھے خوف ہوا کہ اگر اس کی خاطر حج کرنے اس کے ساتھ جاؤں تو کہیں غَضَبِ الٰہی کا شکار نہ ہوجاؤں کیونکہ اس طرح میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے کئے جانے والے عمل میں دوسری چیز داخل کر دیتااس لئے جو کام میں کر رہاں ہوں یہ میرے نزدیک70حج سے بڑھ کر ہے۔
حکایت:میں تو جہادکےلئے ہی نکلاہوں
(12)…ایک بزرگ فرماتے ہیں: میں براستہ سمندر جہاد کے لئے نکلا تو ہم میں سے کسی نے توشہ دان بیچنا چاہا،میں نے کہا:میں اسے خرید لیتا ہوں تاکہ جہاد میں اس سے فائدہ اٹھاؤں اور جب فلاں شہر پہنچ جاؤں گا تو اسے بیچ دوں گااور کچھ نفع کما لوں گا۔چنانچہ وہ توشہ دان میں نے خرید لیا، اسی رات میں نے خواب دیکھا کہ آسمان سے دوآدمی اترے ہیں،ان میں سے ایک دوسرے سے کہتا ہے:مجاہدین کے نام لکھو۔چنانچہ وہ اسے لکھوانے لگاکہ فلاں شخص سیروتفریح کی نیت سے نکلا،فلاں دکھاوے کے لئے آیا، فلاں تجارت کی غرض سے اور فلاں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے راستے میں ہے۔پھر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا:لکھو فلاں شخص تجارت کے ارادے سے نکلا۔میں نے کہا:میرے بارے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرومیں تجارت کے لئے نہیں نکلا،نہ میرے پاس سامانِ تجارت ہے جس کی میں تجارت کروں گا،میں تو جہاد کے لئے ہی نکلا ہوں۔تو اس نے کہا:اے شیخ!تم نے کل ایک توشہ دان خریدا تھا اور تم اس میں نفع حاصل کرنا چاہتے تھے۔یہ سن کر میں نے روتے ہوئے کہا:مجھے تاجر نہ لکھو۔تواس نے اپنے رفیق کی طرف دیکھ کر کہا:کیا خیال ہے؟اس نے کہا: لکھو کہ فلاں شخص نکلا تو جہاد کے لئےتھالیکن راستے میں اس نے ایک توشہ دان خرید لیا تھا کہ اس سے نفع حاصل ہو ،پھر اس کے بارے میں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا حکم فرمائے گا۔