Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
261 - 784
 لیکن گدھے کا مرنا اس میں نہیں؟تو مجھ سے کہا گیا کہ اسے  وہاں بھیج دیاگیا ہے جہاں تم نے اسے بھیجا تھا کیونکہ جب تمہیں اس کے مرنے کی خبر ملی تھی توتم نے اس پراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی لعنت کی تھی اس وجہ سے گدھے میں تمہارا ثواب باطل ہوگیا اگر تم اس طرح کہتے’’فِیْ سَبِیْلِاللہ‘‘تو ضرور اس کا ثواب بھی نیکیوں کے پلڑے میں پاتے۔
	ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا:ایک دن میں نے لوگوں کے سامنے صدقہ دیا تو لوگوں کا میری طرف دیکھنا مجھے اچھا لگا تو میں نے نہ اس کا ثواب پایا اور نہ گناہ۔
	حضرت سیِّدُناسُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے جب یہ واقعہ سنا تو فرمانے لگے:ان کا حال کتنا اچھا ہوا کہ نہ ثواب ملا اور نہ ان پر گناہ ہواان کے ساتھ تو اچھا سلوک کیا گیاہے۔
(9)…حضرت سیِّدُنایحییٰ  بن مُعاذرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:اخلاص عمل کو عیوب سے اس طرح جدا کر دیتا ہے جس طرح دودھ،گوبراور خون سے جدا ہوکرنکلتا ہے۔
حکایت:اخلاص کے ساتھ کی جانے والی دعا قبول ہوگئی
(10)…منقول ہے کہ ایک شخص عورتوں کی شکل و صورت بنا کر نکلتا اور جہاں شادی یا مرگ کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں وہاں جاتا ،ایک دن اتفاق سے وہ عورتوں کے مجمع میں گیا وہاں کسی عورت کا ایک موتی چوری ہوگیا تو لوگوں نے شور مچایا کہ دروازہ بند کردو تا کہ ہم تلاشی لیں ،وہ ایک ایک کی تلاشی لے رہے تھے یہاں تک کہ اس شخص کی اور اس کے ساتھ ایک عورت کی باری آگئی،اس شخص نے اخلاص کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دعا کی:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اگرآج میں اس رُسوائی سے بچ گیاتوآئندہ کبھی ایسا کام نہیں کروں گا۔چنانچہ وہ موتی اس عورت کے پاس سے برآمد ہوگیا توانہوں نے بآوازِ بلند کہا:ہمیں موتی مل گیا ہے اب عورتوں کی تلاشی نہ لی جائے۔
70حج سے بڑھ کر:
(11)…ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں:میں حضرت سیِّدُناابوعُبَیْدمحمد بن حسان تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس کھڑا تھا،وہ عرفہ(یعنی نوذی الحجہ) کے دن عصرکے بعد اپنی زمین میں ہل چلا رہے تھے،اسی دوران ان