کے لئے عمل کرتاکہ شیطان کے مکر و فریب سے بچ جائے۔
مخلص کون؟
(2)…حضرت سیِّدُنایعقوب مکفوفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسے چھپائے جیسے اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے۔
(3)…حضرت سیِّدُناابو سیلمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرتے ہیں:سعادت مندہے وہ شخص جس کا ایک قدم بھی صحیح ہوجائے کہ اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی اور کی نیت نہ ہو۔
(4)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف مکتوب بھیجا:جس کی نیت خالص ہوتی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ان امورمیں کفایت کرتا ہے جو اس کے اور لوگوں کے مابین ہوتے ہیں۔
(5)…ایک وَلیُاللہ نے اپنے بھائی کولکھا:اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرو(کہ اخلاص کے ساتھ کیاجانے والا) تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔
(6)…حضرت سیِّدُناایوب سختیانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:عمل کرنے والوں پر سب اعمال سے زیادہ سخت عمل نیت کو خالص کرنا ہے۔
(7)…حضرت سیِّدُنامُطَرِّف بنعبداللہ بن شِخِّیرعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَدِ یْر فرماتے ہیں:جس کے عمل میں اخلاص ہو اس کے لئے ویسا ہی اجر ہوگا اور جس کے عمل میں اختلاط(ملاوٹ) ہو اس کے لئے اجر بھی ویسا ہی ہوگا۔
حکایت:گدھااور بلی
(8)…منقول ہے کہ ایک بزرگ کو بعدِوفات خواب میں دیکھ کر پوچھاگیا:آپ نے اپنے اعمال کوکیسا پایا؟ انہوں نے جواب دیا:جو عمل بھی میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے کیا تھااسے دفتَرِ اعمال میں پایایہاں تک کہ انار کا ایک دانہ جو میں نے راستے سے ہٹادیا تھا اور ہماری ایک بلی جو مر گئی تھی اسے بھی میں نے نیکیوں کے پلڑے میں دیکھا،میری ٹوپی میں ریشم کا ایک دھاگاتھاجسے میں نے گناہوں کے پلڑے میں دیکھااور میرا ایک گدھا مر گیا تھا جس کی قیمت100دینار تھی میں نے اس کا ثواب نہ پایا توعرض کیا:بلی کا مرنا تو نیکیوں کے پلڑے میں ہے