دونوں میں پایا جاتا ہے۔ ظاہری صورت کا ادراک ظاہری آنکھ سے اور باطنی صورت کا ادراک باطنی آنکھ سے کیا جاتا ہے لہٰذا جو باطنی آنکھ(یعنی نورِبصیرت) سے محروم ہو وہ باطنی صورت کا ادراک کر سکتا ہے نہ اس سے لذت پاسکتا ہے،نہ اس سے محبت کرسکتا ہے اورنہ ہی اس کی طرف میلان رکھ سکتا ہے۔ پھر جس کی باطنی بصیرت ظاہری حواس پر غالب ہواس کی محبت بھی ظاہر ی اشیاء کی بَنِسبت باطنی اشیاء سے زیادہ ہوگی تو جو شخص دیوار پر بنی ہوئی تصویر سے اس کی ظاہری خوبصورتی کی بنا پر محبت کرتا ہے اور جو کسی نبیعَلَیْہِ السَّلَام سے ان کے باطنی حسن و جمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے ان دونوں کی محبت میں بڑا فرق ہے۔
پانچواں سبب: پوشیدہ مناسبت
محبت کا پانچواں سبب محبوب اور محب کے درمیان پوشیدہ مناسبت کا ہونا ہےکیونکہ اکثر دو شخصوں کے درمیان محبت کی پختگی کا سبب نہ تو حسن و جمال ہوتا ہے اور نہ ہی کسی فائدے کا حُصول بلکہ محض روحوں کا ایک دوسرے کے لائق ومناسب ہونا سبب ہوتا ہےجیساکہ رسولِ اکرم،شفیعمُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:’’ مَا تَعَارَفَ مِنۡھَا ائۡتَلَفَ وَمَا تَنَاکَرَ مِنۡھَا اخۡتَلَفَ یعنی(روحیں عالَمِ ارواح میں جمع شدہ ایک لشکر ہیں) جن کے مابین وہاں آشنائی ہوگئی ان کے درمیان یہاں الفت ہوگی اور جو وہاں ایک دوسرے سے ناواقف رہیں وہ یہاں بھی ناواقف رہیں گی۔“(1)
ہم نے”آدابِ صحبت کے بیان“میں جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کا ذکرکیاہے وہاں یہ بات تحقیق کے ساتھ بیان کردی ہے،اس کا مطالعہ وہیں سے کر لیاجائے کیونکہ یہ بھی اسبابِ محبت کے عجائبات میں سے ہے پس اسی لئےمحبت کی اقسام کےپانچ اسباب ہیں:(۱)…انسان کا اپنی ذات کے وجود،اس کے کمال اور بقا سے محبت کرنا۔(۲)…احسان کرنے والے سے ان چیزوں کے سبب محبت کرناجو اپنے وجود کے دوام و بقاء اور اس سے ہلاک کرنے والی اشیاء کو دور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔(۳)… لوگوں کے ساتھ حُسْنِ سُلُوک کرنے والے سے محبت کرنا اگرچہ محبت کرنے والے پر احسان نہ کیا ہو۔ (۴)…ہراس شے سے محبت کرنا جس کی ذات میں حسن وجمال پایا جاتا ہو خواہ ظاہری صورت میں ہو یا باطنی صورت میں ہو اور (۵)…ایسے شخص سے محبت کرنا کہ اِس کے اوراُس کے درمیان کوئی پوشیدہ مناسبت ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب البر والصلة، باب الارواح جنود مجندة،ص۱۴۱۸، حدیث:۲۶۳۸