وعیال پر خرچ کرنا،اپنے بھائیوں پر صدقہ کرنا،یہ تمہارے اور مسلمانوں کے لئے درخت کاٹنے سے زیادہ مفید ہے کہ درخت کاٹنے سے ان لوگوں کو کوئی نقصان نہ ہوگا نہ ہی تمہارے مسلمان بھائیوں کو کوئی فائدہ ہوگا کیونکہ اس کی جگہ دوسرا درخت لگا دیا جائے گا۔عابد نے شیطان کی بات میں غوروفکر کیا اور(دل ہی دل میں)کہنے لگا:اس نے سچ کہا،میں کوئی نبی نہیں ہوں کہ مجھ پر اسے کاٹنا لازم ہو اور نہ ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اسے کا ٹنے کا حکم دیا ہے کہ میں اس پر عمل نہ کرنے سے گناہ گار ہوجاؤں گا اور جو کچھ اس شیخ نے کہاہے اس میں زیادہ نفع ہے۔چنانچہ عابد نے شیطان سے اس عہد و پیمان پر قسم لے لی اور اپنے عبادت خانے کی طرف لوٹ آیا،صبح ہوئی تودیکھا کہ اس کے سرہانے دودینار رکھے ہوئے ہیں۔اس نے انہیں اٹھالیا،دوسرے دن بھی اسی طرح ہوا لیکن تیسرے دن اسے کچھ نہ ملا تو وہ غصے میں آگیا اور کلہاڑا کاندھے پر رکھ کر درخت کی طرف چل دیا،راستے میں پھر شیطان شیخ کی صورت میں اس سے ملااور پوچھا:کہاں جارہے ہو؟عابد نے کہا: اس درخت کو کاٹنے جارہا ہوں۔شیطان نے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!تم جھوٹ بولتے ہو،تم اس پر قادر نہیں اور نہ اس کام کو کرسکتے ہو۔چنانچہ عابد نے اسے پکڑکر پہلے کی طرح گرانا چاہا توشیطان نے کہا:اب ایسا نہیں ہوسکتا۔پھر شیطان نے اسے پکڑکر پچھاڑ دیا،اب وہ عابد شیطان کے سامنے چڑیا کی طرح تھا،ابلیس لعین اس کے سینے پر چڑھ بیٹھااور کہنے لگا:اپنے اس ارادے سےباز آجاؤ ورنہ تمہیں جان سے ماردوں گا۔عابد نے جب اپنے آپ کو بے بس پایا تو اس سے کہا:اے فلاں!مجھے چھوڑ دے اور یہ بتا کہ تومجھ پر کیسے غالب آگیا؟حالانکہ پہلی مرتبہ میں تجھ پر غالب آگیا تھا۔شیطان نے کہا:پہلی مرتبہ تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے غصہ آیا تھا اور تیری نیت آخرت کی تھی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے تیرے ہاتھوں مغلوب کردیا جب کہ اس مرتبہ تجھے اپنی ذات اور دنیا کے لئے غصہ آیا تو میں نے تجھے پچھاڑ دیا۔یہ حکایت اس فرمانِ باری تعالیٰ کی تصدیق کرتی ہے:
اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ ﴿۸۳﴾ (پ۲۳،ص:۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:مگرجوان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔
کیونکہ بندہ اخلاص کے ذریعے ہی شیطان سے بچ سکتا ہے۔
اخلاص کی فضیلت پر مشتمل بزرگانِ دین کے 18اقوال وحکایات:
(1)…حضرت سیِّدُنا معروف کرخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیخودکومارتےہوئےکہتے:اےنفس!خالصاللہ عَزَّ وَجَلَّ