Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
258 - 784
اِلَیۡہِمْ اَعْمَالَہُمْ فِیۡہَا وَہُمْ فِیۡہَا لَا یُبْخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾ (پ۱۲،ھود:۱۵)
میں ان کاپورا پھل دے دیں گےاور اس میں کمی نہ دیں گے۔
حکایت:عابد اورشیطان
	منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابدتھا جس نے طویل عرصہ تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت کی،اس کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے:فلاں قوم اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سوا ایک درخت کی پوجا کرتی ہے۔یہ سن کر وہ غصے میں آگیا اور اپناکلہاڑا کاندھے پر رکھ کر درخت کاٹنے کے ارادے سے چل پڑا،راستے میں اسے ایک شیخ کے روپ میں شیطان ملا اور پوچھنے لگا:کہاں کا ارادہ ہے؟عابد نے کہا:فلاں درخت کو کاٹنے جارہا ہوں۔ شیطان کہنے لگا:تجھے اس سے کیا غرض؟تواپنی عبادت چھوڑ کر دوسرے معاملات میں کیوں پڑتا ہے؟عابد نے کہا:یہ بھی میری عبادت ہے۔شیطان نے کہا:میں تجھے ہرگز یہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا۔چنانچہ دونوں لڑپڑے،عابد نے اسے پکڑ کر زمین پر دے مارااور اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا۔شیطان نے کہا:مجھے چھوڑ دومیں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔عابد نے اسے چھوڑ دیا۔شیطان اس سے کہنے لگا:اے فلاں!اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے تجھ سے یہ چیز ساقط کی ہے تجھ پر فرض نہیں کی،نہ تو تُواس درخت کی عبادت کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں کا گناہ تجھ پر ہوگا،روئے زمین پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے بے شمار انبیا ہیں،اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّچاہتا تو انہیں ان کی طرف بھیج دیتا اور انہیں درخت کاٹنے کا حکم دیتا۔عابد نے کہا:میں اسے ضرور کاٹوں گا۔دونوں پھر لڑپڑے،عابد اس پر غالب آگیا اور اسے پچھاڑ کر اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا،جب ابلیس عاجز آگیا تو اس نے کہا:میرے پاس تیرے لئے ایک تجویز ہے جس سے میرے اور تیرے درمیان فیصلہ ہوجائے گااور وہ تیرے لئے زیادہ بہتر اور نفع بخش ہے۔عابد نے پوچھا:وہ کیا ہے؟ کہا:مجھے چھوڑ دوپھر بتاؤں گا۔عابد نے اسے چھوڑ دیا تو شیطان بولا:تم فقیر و حاجت مند ہو،تمہارے پاس کچھ نہیں،تم لوگوں پر بوجھ ہو،لوگ تمہاری خبر گیری کرتے ہیں،تم چاہتے ہوگے کہ تم اپنے بھائیوں سے اچھا سلوک کرو،پڑوسیوں کی غم خواری کرو،خود سیر ہوکر کھاؤاور لوگوں سے بے نیاز ہوجاؤ۔عابد نے کہا:ہاں!یہ بات تو ہے۔شیطان نے کہا:تم درخت کاٹنے کا ارادہ چھوڑو اور واپس چلے جاؤ،میں ہررات تمہارے سرہانے دودینار رکھ دیا کروں گا،جب صبح اٹھو تو انہیں اٹھالینا،اپنے اور اپنے اہل