Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
257 - 784
عالِم،سخی اور شہیدکا اَنجام:
(6)...بروزِ قیامت سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال ہوگا:ایک وہ شخص ہوگاجسےاللہعَزَّ  وَجَلَّ نے علم عطا کیا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس سے ارشاد فرمائے گا:تو نے جو علم سیکھااس سے کیا کیا؟تو وہ عرض کرے گا: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں نے دن رات اس کے مطابق عمل کیا۔تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرمائے گا:تونے جھوٹ بولا، فَرِشتے بھی کہیں گے کہ تونے جھوٹ بولابلکہ تیری نیت یہ تھی کہ لوگ کہیں فلاں شخص عالِم ہے،خبر دار! بے شک وہ کہہ لیا گیا۔دوسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے مال عطا کیا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس سے ارشاد فرمائے گا: میں نے تم پر انعام کیا تو تم نے کیا کیا؟بندہ عرض کرے گا:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں نے دن رات اس میں سے صدقہ کیا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرمائے گا:تونے جھوٹ کہا،فَرِشتے بھی کہیں گے کہ تو نے جھوٹ کہابلکہ تیری نیت یہ تھی کہ تجھے سخی کہا جائے،خبر دار!بے شک وہ کہہ لیاگیا۔تیسرا شخص وہ ہوگاجسے راہِ خُدا میں قتل کیا گیا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس سے اشادفرمائے گا:تو نے کیا کیا؟وہ کہے گا:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! مجھے جہاد کا حکم دیا گیا تو میں نے جہاد کیا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرمائے گا:تونے جھوٹ بولا،فَرِشتے بھی کہیں گے کہ تو نے جھوٹ بولابلکہ تیری نیت یہ تھی کہ لوگ تجھےبہادرکہیں،خبردار!بےشک وہ کہہ لیاگیا۔حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:پھررسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری ران پر ایک خط کھینچ کرفرمایا:اے ابو ہریرہ!بروزِقیامت سب سے پہلے اِنہی لوگوں پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔(1)
	اس حدیث کے راوی حضرت سیِّدُنا ناتِل بن قَیْسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےحضرت سیِّدُناامیْرِمُعاوِیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوکریہ حدیث بیان کی توآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاتناروئے قریب تھا کہ آپ کا دم نکل جاتا۔ پھر فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے سچ فرمایا:
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ	
ترجمۂ کنز الایمان:جودنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…مسلم، کتاب الامارة، باب من قاتل للریاء والسمعة استحق النار،ص۱۰۵۵، حدیث:۱۹۰۵
	سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی الریاء والسمعة،۴/ ۱۶۹،حدیث:۲۳۸۹
المستدرک، کتاب الجھاد، باب سبب نزول آیة:فمن کا یرجو لقاء ربہ،۲/ ۴۴۲،حدیث:۲۵۷۴