باب نمبر2: اخلاص،اس کی فضیلت،حقیقت اور اس کے
درجات کابیان(اس میں پانچ فصلیں ہیں)
پہلی فصل: اِخلاص کی فضیلت
اخلاص کی فضیلت پر مشتمل چار فرامین باری تعالٰی:
(1)…
وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ (پ۳۰،البینة:۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہکی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے۔
(2)…
اَلَا لِلہِ الدِّیۡنُ الْخَالِصُ ؕ (پ۲۳،الزمر:۳) ترجمۂ کنز الایمان:ہاں خالص اللہکی بندگی ہے۔
(3)…
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَاَصْلَحُوۡا وَاعْتَصَمُوۡا بِاللہِ وَاَخْلَصُوۡا دِیۡنَہُمْ لِلہِ (پ۵،النسآء:۱۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان:مگر وہ جنہوں نے توبہ کی اور سنورے (اپنی اصلاح کی)اور اللہکی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالصاللہکے لئے کرلیا۔
(4)…
فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪ (پ۱۶،الکھف:۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:توجسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔
یہ آیتِ طیبہ اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے عمل کرے اور چاہے کہ اس پر اس کی تعریف کی جائے۔