عبادت کرنے کی وجہ سے تھک جائے اورنَشاط باقی نہ رہے اور رغبت بھی کم ہوجائے اور جانتا ہو کہ اگرکچھ وقت کھیل کود یا گفتگو میں گزارے گا تو نشاط بحال ہوجائے گی تو ایسی صورت میں کھیلنا اس کے حق میں(نفل) نماز سے افضل ہے ۔
حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:بے شک میں تھوڑے سے کھیل سے اپنے نفس کو راحت پہنچاتا ہوں اور یہ میرے لئے حق پر مددگار ثابت ہوتا ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتےہیں:دلوں کوراحت پہنچایاکرو کیونکہ اگر ان سے زبردستی کوئی کام کروایا جائےگا تو یہ اندھے ہوجائیں گے۔
یہ وہ باریک نکات ہیں جنہیں جیِّد عُلَمائے کرام ہی سمجھ سکتے ہیں چھوٹے اور رَذِیْل(گھٹیا)قسم کے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔بعض اوقات ماہرطبیب گرمی میں مبتلا شخص کا علاج گوشت سے کرتا ہے حالانکہ گوشت بھی گرم ہوتا ہے اور طِب سے ناواقف شخص اسے بعید از عقل سمجھتا ہے جبکہ طبیب یہ چاہتا ہے کہ پہلے اس کی قوت بحال ہوجائے تاکے مریض گرمی کا علاج اس کی ضد کے ساتھ برداشت کر سکے۔اسی طرح جوشخص شطرنج کھیلنے کا ماہر ہوتا ہے وہ بعض اوقات رخ اور گھوڑا بلا عوض چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس حیلے کے ذریعے سے غلبہ پالے لیکن جو اس کھیل میں ماہر نہیں ہوتا وہ اس پر ہنستا اور تعجب کرتا ہے۔اسی طرح جنگ کے داؤ پیچ جاننے والا شخص کبھی اپنے مد مقابل سے حیلہ بازی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے تا کہ اپنے حریف کو تنگ جگہ کی طرف کھینچے اور موقع پا کر اس پر حملہ کردے اور اس پر غلبہ پالے۔اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے راستے پر چلنا بھی شیطان کے ساتھ لڑائی اوردل کا علاج کرناہے تو صاحِبِ بصیرت توفیق یافتہ شخص دورانِ سلوک باریک حیلے اختیار کرتا ہے جنہیں کم عقل لوگ بعید سمجھتے ہیں ۔
اس سے پتا چلا کہ مرید کے لئے مناسب نہیں کہ جوبات وہ اپنے شیخ سے دیکھے اس پر دل میں انکار چھپائے رکھے اور نہ ہی طالِبِ علم کو چاہئے کہ اپنے اُستادپر اعتراض کرے بلکہ اپنی بصیرت کی حد تک سمجھنے کی کوشش کرے اور ان کی جو بات اس کی سمجھ میں نہ آئے وہ اُنہی کے حوالے کردے یہاں تک کہ اس پر اسرار منکشف ہوجائیں اس طرح کہ یہ ان کے رتبے کو پہنچ جائے اور ان کا مقام پالےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اچھی توفیق دینے والا ہے۔