مشرف ہوئے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان سے ارشادفرمایا:’’سب لوگ مجھ سے جنت مانگتے ہیں سوائے بایزیدبسطامی کے کہ وہ صرف میرا طالب ہے۔‘‘اورحضرت سیِّدُنا بایزید بِسطامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی خواب میں دیدارِباری تعالیٰ سے مشرف ہوئے تو عرض کی:مولا!تیری طرف آنے کا راستہ کیا ہے؟تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنےارشادفرمایا:اپنے نفس کو چھوڑ اور میری طرف آجا۔
سب سےبڑا خسارہ:
حضرت سیِّدُناابوبکرشِبْلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکووصال کےبعدکسی نےخواب میں دیکھ کرپوچھا:مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟توانہوں نے جواب دیا:اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی دعوٰی پر مجھ سے دلیل طلب نہیں کی سوائے ایک بات کے وہ یہ کہ میں نے ایک دن کہا تھا:جنت کے خسارے سے بڑھ کر کون سا خسارہ ہے؟تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:میرے دیدار کے خسارے سے بڑھ کر کون ساخسارہ ہوگا؟
نفل افضل ہے یا مباح؟
غرضیکہ نیتوں کے درجات میں تفاوت ہے اور جس کے دل پر ان میں کسی ایک کا غلبہ ہوتا ہے تو بعض اوقات اس کو دوسری نیت کی طرف پھرنا آسان نہیں ہوتا اور ان حقائق کی معرفت ایسے اعمال وافعال کا سبب بنتی ہے کہ فقہائے ظاہر بھی ان کا انکار نہیں کرتے۔پس ہم کہتے ہیں:جس کی نیت مباح کام میں موجود ہو لیکن نفل میں موجود نہ ہو تو اس کے حق میں مباح افضل ہے اورفضیلت اس کی طرف منتقل ہوجائے گی اور ایسی صورت میں نفل اس کے حق میں نقصان کا باعث ہوگا اس لئے کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ۔
مثال:
مثال کے طور پر معاف کرنا بنسبت انتقام لینے کے افضل ہےاور بعض اوقات اس کی نیت انتقام لینے کی تو ہوتی ہے لیکن معاف کرنے کی نہیں ہوتی تو ایسی صورت میں انتقام اور بدلہ لیناافضل ہے ۔یااس کی نیت کھانے پینے اور سونے کی ہے تاکہ اپنے نفس کو راحت پہنچائے اور مستقبل میں عبادت پر قُوت پائے جب کہ فِی الْوَقْت(نفل)نماز و روزے کی نیت نہیں ہے تواس کے حق میں کھانا اور سونا افضل ہے،بلکہ اگرمسلسل