لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق ثواب ملے گااس لئے یقیناً یہ لوگ دیدارِ باری تعالیٰ سے لطف اندوز ہوں گے اور حوروں کی طرف التفات کرنے والوں پر ہنسیں گے جس طرح حوروں کی طرف دیکھنے والے ان لوگوں پرہنسیں گے جو مٹی سے بنی ہوئی تصویروں کو دیکھ کر لطف اٹھاتے ہیں،بلکہ اس سے بھی زیادہ ہنسیں گے کیونکہ جمالِ باری تعالیٰ اور حوروں کے جمال کے درمیان تفاوُت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جو تفاوُت حوروں کے جمال اور مٹی کی تصویروں کے درمیان ہے ،بلکہ چوپایہ صِفَت نُفُوس کا شہوت کی تکمیل کے لئے خوبصورت چہروں والی حوروں کو بڑا سمجھنااور جمالِ وجہِ الٰہی سے اعراض کرنا ایسے ہی ہے جیسےخُنْفُساء(گوبر کا کیڑا)اپنے جوڑے(یعنی ساتھ رہنے والے)کو بڑا سمجھتااور اس سے مانوس ہوتاہے اور عورتوں کے جمال کی طرف دیکھنے سے اعراض کرتا ہےتو اکثر دلوں کا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جمال اور جلال کو دیکھنے سے اندھا ہوناایسا ہی ہے جیسےخُنْفُساء عورتوں کا جمال دیکھنے سے اندھا ہے ،اسے اس بات کی بالکل خبر نہیں اور نہ ہی اس کی طرف التفات ہے اگر اسے عقل ہوتی اور اس کے سامنے عورتوں کے جمال کو بیان کیا جاتا تو وہ ضرور ان لوگوں کی عقل کو داد دیتا جو ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سچ فرمایا ہے:
وَلَا یَزَالُوۡنَ مُخْتَلِفِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۙ (پ۱۲،ھود:۱۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
کُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمْ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۳﴾(پ۱۸،المؤمنون:۵۳) ترجمۂ کنز الایمان:ہرگروہ جو اس کے پاس ہے اس پرخوش ہے۔
ایک جگہ فرمایا:
وَلِذٰلِکَ خَلَقَہُمْ ؕ (پ۱۲،ھود:۱۱۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور لوگ اسی لئے بنائے ہیں۔
بایزیدبِسطامی صرف میرا طالب ہے:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنااحمد بن خَضْرَوَیْہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخواب میں دیدارباری تعالیٰ(1) سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دنیا کی زندگی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکادیدارنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے لیے خاص ہے اورآخرت میں ہرسُنّی مسلمان کے لیے ممکن بلکہ واقع۔رہاقلبی دیداریاخواب میں،یہ دیگرانبیا عَلَیْہِمُ السَّلَامبلکہ اولیاکے لیے بھی حاصل ہے۔ہمارے امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوخواب میں سو۱۰۰بارزیارت ہوئی۔(بہارِشریعت،حصہ ۱، ۱/ ۲۰)