سب سے اعلٰی نیت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکو عبادت کا مستحق سمجھ کر تعظیْمِ الٰہی کی نیت سے عبادت کرنے کا جہاں تک تعلق ہے تو ایسی عبادت دنیا میں راغب شخص کو میسر نہیں ہوتی اور یہ نیت سب سے اعلیٰ اور کم یاب ہے،اس پر عمل کرنا تو دور کی بات روئے زمین پر بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس نیت کو سمجھ سکیں۔
عبادت میں لوگوں کی نیتیں مختلف ہیں:
بعض لوگ خوف و ڈر کے باعث عمل کرتے ہیں کیونکہ وہ جہنم کی آگ سے ڈرتے ہیں اور بعض امید کے باعث یعنی جنت کی رغبت میں عمل کرتے ہیں یہ نیت اگرچہ اس نیت کی بنسبت کم درجہ رکھتی ہے جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت محض اس کی ذات کی تعظیم اور جلال کے قصد سے ہواس کے علاوہ کوئی اور نیت نہ ہو لیکن اس کے باوجود یہ درست نیتوں میں سے ہے کیونکہ یہ اس چیز کی طرف میلان ہے جس کا آخرت میں وعدہ دیا گیا ہے اگرچہ وہ چیز اس جنس میں سے ہے جس سے دنیا میں الفت و محبت ہوا کرتی ہے،انسان پر سب شہوتوں سے زیادہ شرم گاہ اور پیٹ کی شہوت غالب ہوتی ہے اور اس خواہش کی تکمیل کی جگہ جنت ہے تو جنت کے لئے عمل کرنے والا گویا اپنے پیٹ اور شرم گاہ کے لئے عمل کرتا ہے جیسے بُرامزدور(کہ اسے دیاجائے تو کام کرے، نہ دیا جائےتو نہ کرے)ایسے شخص کا درجہ بھولے بھالے اور سادہ لوگوں کا سا درجہ ہوگا اور وہ اپنے عمل سے اس درجے کو پالے گاکیونکہ اکثر اہْلِ جنت بھولے بھالے ہونگے۔(1)
اہل عقل کی عبادت:
لیکن عقل والوں کی عبادت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکروفکر سے تجاوز نہیں کرتی اس لئے کہ وہ اس ذات کے جمال وجلال سے محبت کرتے ہیں،اعمال تواس محبت اور ذکر و فکر کی تاکیدوتائید کے لئے ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کا درجہ اس سے بہت بلند ہے کہ جنت میں نکاح اور کھانے کی چیزوں کی طرف التفات کریں کیونکہ ان کا مقصود جنت نہیں تھا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان، باب التوکل باللّٰہ والتسلیم،۲/ ۱۲۵،حدیث:۱۳۶۶