نظر سے دیکھوں جس نظر سے تم نے دیکھاہے۔چنانچہ آپ نے کتاب لی اور کافی دیر تک وہاں ٹھہرے رہے پھر فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے!بے شک میں نے اس کتاب سے فائدہ اٹھایا۔
٭…حضرت سیِّدُنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے عرض کی:ہمارے لئے دعا فرمادیں۔تو آپ نے فرمایا:اس وقت نیت مستحضر نہیں جب حاضر ہوگی تو دعا کردوں گا۔
٭…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں ایک مہینے سے ایک شخص کی تیمار داری کے لئے نیت تلاش کر رہا ہوں جو ابھی تک درست نہیں ہوئی۔
٭…عیسٰی بن کثیر فرماتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانکے ساتھ چلا پس جب وہ اپنے مکان کے دروازے پر پہنچےمیں واپس لوٹنے لگا تو ان کے بیٹے نے کہا:آپ انہیں رات کا کھانا پیش نہیں کریں گے؟انہوں نےفرمایا:اس وقت میری نیت نہیں ہے۔
یہ اس لئے کہ نیت نظر کے تابع ہوتی ہے تو جب نظر بدلتی ہے نیت بھی تبدیل ہوجاتی ہے اور اسلاف نیت کے بغیر کوئی بھی کام کرناروا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ نیت عمل کی روح ہے اور نِیَّتِ صادِقہ(سچی نیت) کے بغیر عمل ریا اور تکلُّف ہے اور یہ(یعنی ریا وتکلُّف والا عمل)اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دوری کا سبب ہے نہ کہ قُرب کا۔وہ جانتے تھے کہ نیت یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی زبان سے کہے:’’میں نے نیت کی۔‘‘بلکہ نیت تو دل کے اُبھار کا نام ہے جو مددِالٰہی کے قائم مقام ہے بعض اوقات اس کا حصول آسان ہوتا ہے اور بعض اوقات مشکل ،البتہ جس کے دل پر دین اور آخرت کا غلبہ ہو اس پر اکثر اوقات امورِخیر کے لیے نیت کو حاضر کرناآسان ہوتا ہے کیونکہ اس کا دل کسی نہ کسی طرح اصْلِ خیر کی طرف مائل رہتا ہے اس لئے وہ عام طور پر دوسرے نیک اعمال کی طرف بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہےاور جس کا قلبی میلان دنیا کی طرف ہو اور اس پر دنیا غالب ہو اسے یہ حالت میسر نہیں ہوتی بلکہ فرائض میں بھی بڑی محنت اور کوشش کے ساتھ اسے یہ نیت میسر ہوتی ہےاور زیادہ سے زیادہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ جہنم کو یاد کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے عذاب سے ڈراتا ہے یا جنتی نعمتوں کو یاد کرکے اپنے نفس کو ان میں رغبت دلاتا ہے ،ایسی صورت میں بعض اوقات ایک کمزور سااِرادہ اُبھرتا ہے تو اسے اپنی رغبت ونیت کے مطابق ہی ثواب ملتا ہے۔