Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
25 - 784
 ان دونوں صفات کا ادراک حِس سے نہیں ہوتا اور تمام جسم میں ان کا محل ایسا جز ہے جوتقسیم نہ ہو اوریہی حقیقی طور پر محبوب ہےاوریہ جز شکل و صورت اور رنگ سے پاک ہے،اس لئے نہ آنکھ کے لئےظاہرہے اورنہ نظر آنے کی وجہ سے محبوب ہے۔ معلوم ہوا کہ جمال سیرتوں میں موجود ہوتا ہے اور اگر اچھی سیرت بغیر علم اور بصیرت کے صادر ہو تی تو محبت کو واجب نہ کرتی۔
تمام عمدہ اَخلاق کا مرجع :
	خلاصہ یہ نکلا کہ محبوب سیرت ِجمیلہ کا مصدر ہوتا ہے اوروہ عمد ہ اخلاق اور فضائِلِ شریفہ ہیں اور ان سب کا مرجع کمالِ علم اور کمالِ قدرت ہے اور یہ طبعی طورپر محبوب ہوتے ہیں اور حواس سے ان کا ادراک نہیں ہوتا حتّٰی کہ جوبچہ اپنی طبیعت پر چھوڑ دیا گیا ہو اور ہم کسی غائب یا موجود،زندہ یا مردہ کو اس کے نزدیک محبوب بنانا چاہیں تو ہمارے پاس سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ اس کے اوصاف مثلاً شجاعت، سخاوت، علم اور تمام اچھی صفات بچے کے سامنے تفصیل کے ساتھ بیان کریں اورجب اسے ان صفات کایقین ہوجائے گاتو بے اختیاراس سے محبت کرنے لگے گا ا ور اس پر قادر نہ ہوگا کہ محبت نہ کرے۔چنانچہ
	صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی محبت اور ابو جہل و شیطان سے نفرت اسی لئے دل میں غالب رہی کہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی عمدہ صفات اور ابو جہل و شیطان کی برائیاں بہت بیان کی گئیں جن کا حواس سے ادراک نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ جب لوگوں نے حاتِم طائی کی سخاوت اور حضرتِ سیِّدُناخالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شجاعت کو بیان کیا تو دل ان سے لازمی طور پر محبت کرنے لگے اور یہ محبت ان کی ظاہری شکل و صورت دیکھنے کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی اور نہ اس لئے کہ محبت کرنے والے نے ان سے کوئی فائدہ حاصل کیا ہے۔ بلکہ جب کہیں کسی بادشاہ کی سیرت یعنی اس کا عدل واحسان،صدقہ و خیرات بیان کیا جائے تو دلوں پر اس کی محبت غالب ہوجاتی ہے اگرچہ فاصلہ ودُوری کے باعث محبت کرنے والوں تک اس کے احسانات پہنچنا ممکن نہ ہوں۔
	ان مثالوں سے واضح ہوگیا کہ انسان کی محبت احسان کرنے والوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ احسان کرنے والا فی نفسہٖ محبوب ہوتا ہے اگرچہ محبت کرنے والے تک کبھی اس کا احسان نہ پہنچا ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر جمال اور حُسن محبوب ہوتا ہے اور صورت کی دو اقسام ہیں: ظاہری اور باطنی اور حسن و جمال ان