اسلاف کرام بغیرنیت کے کوئی بھی کام نہ کرتےتھے
٭…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناامام محمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے حضرت سیِّدُنا امام حسن بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی نمازِ جنازہ نہ پڑھی(پوچھنے پر)فرمایا:میرے دل میں نیت حاضر نہ تھی۔
٭…ایک بزرگ نے اپنی زوجہ سے کنگھی لانے کوکہا وہ بالوں میں کنگھی کرنا چاہتے تھےتو زوجہ محترمہ نے عرض کی:آئینہ بھی لے آؤں؟تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا:ہاں!(وہ بھی لے آؤ)۔ سکوت کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:کنگھی کی تو میری نیت تھی لیکن آئینہ دیکھنے کی نہیں تھی اس لئے میں نے توقف کیا یہاں تک کہ اس کی نیت بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے دل میں پیدا فرما دی ۔
٭…حضرت سیِّدُنا حمادبن سلیمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کا انتقال ہوا جو عُلَمائے کوفہ میں سے تھے تو کسی نے حضرت سیِّدُناسُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے کہا:آپ ان کے جنازے میں تشریف کیوں نہیں لے جاتے؟ فرمایا: اگر میری نیت ہوتی تو ضرور جاتا۔
٭…اسلاف میں سے جب کسی ایک سے اعمالِ خیر کے بارے میں عرض کی جاتی توفرماتے:اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ نیت عطافرمائے گا تو ضرور کریں گے۔
٭…حضرت سیِّدُنا طاؤسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنیت کے بغیر حدیث بیان نہیں فرماتے تھے۔آپ سے حدیث بیان کرنے کا کہا جاتا لیکن آپ بیان نہ کرتے اور بعض اوقات بغیر مطالبے کے حدیث بیان کرنا شروع کردیتے،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس کا سبب پوچھا گیاتوفرمایا:کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں بغیر نیت کے حدیث بیان کروں؟جب میری نیت مستحضر ہوتی ہے تو میں حدیث بیان کردیتا ہوں۔
٭…منقول ہے کہ ابوسلیمان داود بن مُحَبَّر نے جب’’ کتابُ الْعَقْل‘‘ تصنیف کی تو حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّلاس کے پاس تشریف لائے اور کتاب طلب فرمائی،اس میں سے ایک آدھ صفحہ دیکھ کر کتاب واپس کر دی،تو اس نے کہا:کیا ہوا؟فرمایا:اس میں ضعیف اسناد ہیں۔داود بن مُحَبَّر نے کہا:میں نے یہ اسناد کے اعتبار سے تصنیف نہیں کی،آپ اسے امتحان کی نظر سے دیکھیں میں نے تو اسے عمل کی نظر سے دیکھا اور نفع اٹھایا۔حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّلنے فرمایا:کتاب واپس لاؤتاکہ میں بھی اسے اس