ہوں۔ ‘‘اور سمجھتا ہے کہ یہ نیت ہے مگر افسوس یہ تو حدیْثِ نفس یا زبانی کلام یا فکریاایک خیال سے دوسرے خیال کی طرف انتقال ہےاور نیت ان سب سے کوسوں دور ہےکیونکہ نیت تو نام ہے نفس کاکسی چیز کی طرف برانگیختہ،متوجہ اور مائل ہوناجس میں اس کی فوری یا بدیر کوئی غرض ظاہر ہو۔
توجب نفس کا میلان نہیں ہوگا تو صرف ارادے سے فعل کا ایجاد اور اکتساب ممکن نہیں بلکہ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شکم سیرآدمی کہے:’’ میں خواہِشِ طعام اور اس کی طرف میلان کی نیت کرتا ہوں۔‘‘یا کوئی عشق سے خالی شخص کہے:’’میں فلاں شخص سے عشق و محبت کرنے اور اسے اپنے دل سے عظیم سمجھنے کی نیت کرتا ہوں۔‘‘یہ بات محال ہے ۔بلکہ دل کا کسی چیز کی طرف پھرنااور اس کی طرف مائل اور متوجہ ہونا اسی وقت ہوسکتا ہے جب اس کے اسباب کا حصول ہو اور اسباب پر کبھی قدرت ہوتی ہے اور کبھی نہیں اور نفس کسی غرض کی وجہ سے ہی فعل کی طرف اُبھرتاہے جوا س کے موافق اور مناسب ہوتی ہے اور جب تک انسان یہ اعتقاد نہیں کر لیتا کہ اس کی غرض فلاں فعل کے ساتھ وابستہ ہے تب تک اپنا قصد اس فعل کی طرف متوجہ نہیں کرتا اور یہ ایسی بات ہے کہ جس کے اعتقاد پر وہ ہر وقت قادر نہیں ہوتااور اگر اعتقاد ہو تو دل اسی وقت متوجہ ہوگا جب یہ فارغ ہو اور ا س سے بڑھ کر کسی اورقوی غرض میں مشغول نہ ہو اور یہ بات بھی ہر وقت ممکن نہیں ہوتی اور رغبت دلانے والی اور پھیرنے والی چیزوں کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں جن سے وہ جمع ہو جاتے ہیں اور یہ اجتماع اشخاص،احوال اور اعمال کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے ۔مثلاً: اگر نکاح کی شہوت بندے پر غالب ہو اور اولاد ہونے کے حوالے سے کسی دینی یا دنیاوی غرضِ صحیحہ کا اعتقاد نہ ہو تو وہ حصولِ اولاد کی نیت سے جماع نہیں کرسکے گا بلکہ صرف قضائے شہوت کی نیت سے جماع کرسکے گا کیونکہ نیت تو غرضِ مطلوب کا نام ہے اور اس کی غرض صرف شہوت ہے تو اولاد کی نیت کیسے کرے گا؟اسی طرح اگر اس کے دل پر یہ غالب نہ ہو کہ سُنَّتِ نکاح کی ادئیگی اِتِّباعِ رسول کی وجہ سے ہے جس سے ثواب زیادہ ملتا ہے تو نکاح سے اِتِّباعِ سُنَّت کی نیت نہیں کر سکے گازبان یا دل سے کہنا تو محض حدیث نفس یا زبانی کلام ہے نہ کہ نیت۔ہاں!اس نیت کے حصول کاایک طریقہ ہے وہ یہ کہ پہلے شریعت پر اپنا ایمان پختہ کرے اور اس بات پر ایمان قوی کرے کہ جو شخص اُمَّتِ محمدیہ میں اضافہ کی کوشش کرتا ہے اسے زیادہ ثواب ملتا ہےاور بچے سے نفرت دلانے والی تمام چیزیں جیسے بچے کی پرورش اور اس کا بوجھ وغیرہ اپنے دل سے نکال دے،تو جب وہ اس طرح کر لے گاتوہوسکتا ہے کہ اس کے دل میں ثواب کی خاطر اولاد کی رغبت پیدا ہو اور وہ رغبت اسے حرکت دے اور یوں اس کے اعضاء عقدِ نکاح کے لئے متحرک ہوجائیں تو جب دل پر غالب غرض کی وجہ سے قبولِ عقد کے لئے زبان کو حرکت دینے والی قوت برانگیختہ ہوجائے تو وہ نکاح کی نیت کرنے والا ہوگااور اگر ایسا نہ ہو تو جو وہ اپنےنفس میں سوچتا اور دل میں بار بار کہتا ہے کہ میرا اولاد کا قصد ہے وہ وسوسہ اور بکواس ہے اسی وجہ سے کئی سَلَف صالحین نیت نہ ہونے کی وجہ سے بعض افعالِ خیر سے رک جاتےاور فرماتے:اس فعل سے متعلق ہماری کوئی نیت مستحضر نہیں۔چنانچہ