Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
247 - 784
نے یہ کھانا قرض کے بدلے نہ لیاہوتاتو میں ضرور پسند کرتا کہ تم اس میں سے کھاؤ۔
دَوگُناہ:
	حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:جوشخص کسی کوکھانے کی دعوت دے حالانکہ اسے کھلانا نہیں چاہتا،اگر وہ اس کی دعوت قبول کر کے کھا لے تو دعوت دینے والے پردو گناہ ہوں گے اور اگر نہ کھائے تواس پر ایک گناہ ہے۔
	ایک گناہ سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مراد نفاق جبکہ دوسرا گناہ یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو ایسے کام پر برانگیختہ کیا کہ اگر وہ جان لیتا تو ضرور اسے ناپسند کرتا۔
	پس بندے کو چاہئے کہ اس طرح اپنے تمام اعمال میں نیت تلاش کرے،لہٰذا  کسی کام کا کرنا، نہ کرنا نیت کے بغیر نہ ہو اگر اس وقت نیت حاضر نہ ہوتو توقُّف کرے کیونکہ نیت تحْتِ اختیار نہیں ہے۔
پانچویں فصل:		نِیَّت کے غَیر اِخْتِیاری ہونے کا بیان
	جان لیجئے کہ ہم نے نیتوں کے اچھا اور زیادہ ہونے کے بارے میں جو وصیت ذکر کی ہے جاہل شخص جب اس کے ساتھ یہ فرمانِ مصطفٰے’’اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے(1)‘‘سنتا ہے توتدریس (پڑھانے)یاتجارت کرنےیا کھانے کے وقت اپنے دل میں کہتا ہے:’’میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے پڑھانے یا تجارت کرنے یا کھانے کی نیت کرتا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ،۱/ ۵،حدیث:۱