Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
246 - 784
کہ تم سے حساب لیاجائے اپنے نفس کا گہرے غور و فکر سے محاسبہ کرو اور اپنے احوال کی نگرانی کرو اس وقت تک حرکات و سکنات نہ کرو جب تک یہ غور و فکر نہ کر لو کہ حرکت کیوں کررہے ہو؟اور تمہاری نیت کیا ہے؟ اور اس کے سبب تم دنیا میں سے کیا پاؤ گے؟او ر آخرت میں سے کیا گنواؤ گے؟اور تم دنیا کو آخرت پر ترجیح کیوں دیتے ہو؟اگر جانو کہ اس کا باعث صرف دین ہے تو جس کام کاخیال تمہارے دل میں آیا اسے کر گزرو ورنہ رک جاؤ اورکسی کام کو ترک کرنے میں بھی اپنے دل کی نگرانی کرو کیونکہ ترکِ فعل بھی ایک کام ہے اور اس کے لئے بھی درست نیت کا ہونا ضروری ہے اس لئے ترکِ فعل کا سبب پوشیدہ خواہش نہیں ہونی چاہئے جس پر اطلاع نہیں ہوا کرتی اور ظاہری امور اور نیکیوں کی شہرت تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے، اسرار میں خوب غور کرو تاکہ دھوکا کھانے والوں کے درجے سے نکل جاؤ۔
صاحِبِ بصیرت کون؟
	مروی ہےکہ  حضرت سیِّدُنا زکریاعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنے ہاتھ کی کمائی ہی سے کھاتے تھے۔ چنانچہ ایک بار اُجرت پرگارے سے کسی کی دیوار بنارہے تھے،اس نے ایک روٹی آپ کی خدمت میں پیش کی،(آپ کھارہے تھے کہ اسی دوران)کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے،آپ نے انہیں کھانے کی دعوت نہ دی حتّٰی کہ کھا کر فارغ ہوگئے،لوگوں کو بڑا تعجب ہوا،کیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَامکی سخاوت وزہد بہت مشہور تھا،اس لئے انہوں نے سمجھاکہ شریکِ طعام کرنا بہتر ہےتوحضرت سیِّدُنازکریا عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:میں اُجرت پر کسی کا کام کررہا ہوں،انہوں نے مجھے ایک روٹی دی تاکہ مجھے ان کے کام پر قوت حاصل ہو،لہٰذا اگر تم بھی میرے ساتھ مل کر کھا لیتے تو نہ تمہیں کفایت کرتا نہ مجھے اور میں ان کا کام کرنے سے عاجز رہتا۔
                     تو صاحِبِ بصیرت شخص اس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نور سے باطن کو دیکھتا ہےکیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا کام کرنے سے عاجز ہونا فرض کی ادائیگی میں نقصان تھا اور کھانے کی دعوت نہ دینا نفل کا نقصان اورنوافل کو فرائض کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔
	ایک بزرگ فرماتے ہیں:میں حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی خدمت میں حاضرہوا آپ کھانا تناول فرمارہے تھے،آپ نے مجھ سے کوئی کلام نہ کیاحتّٰی کہ کھانے سے فارغ ہوگئے پھرفرمایا:اگرمیں