شر سے نہ بچواورپھرسوال وحساب کے دن تم سے اس کاجواب نہ بن پڑےکیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے تمام احوال سے باخبر اور تمہیں دیکھ رہا ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾ (پ۲۶،ق:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
حکایت:مٹی کی کیا حیثیت ہے؟
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے مکتوب لکھا اور اسے اپنے پڑوسی کی دیوار سے خشک کرنا چاہا لیکن اس سے باز رہا پھر دل میں کہا:یہ مٹی ہے اور مٹی کی کیا حیثیت ہے؟چنانچہ اسے مٹی سے خشک کرلیاتو ہاتِفِ غیبی سے آواز آئی:جو شخص دیوار سے مٹی لینے کو معمولی سمجھتا ہے وہ کل قیامت کے دن اس کی سزا دیکھ لے گا۔
غَیْرُاللہکے لئے عمل نہ کیا:
منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ نماز پڑھی اس نے دیکھاکہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کپڑا اُلٹاہے۔اس کے عرض کرنے پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کپڑا سیدھا کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایاپھر کھینچ لیا اور کپڑا درست نہ کیا۔اس شخص نے اس کا سبب دریافت کیا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:میں نے اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے پہنا تھا اس لئے غیر کے لئے اسے درست نہیں کرنا چاہتا۔
ایک اینٹ اور ایک دھاگا:
حضرت سیِّدُنا حسن بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں :قیامت کے دن دوشخص آپس میں الجھیں گے، ایک کہے گا:میرا اور تمہارا معاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے ہے۔دوسراکہے گا:بخدا!میں تمہیں نہیں جانتا۔تو وہ کہے گا:کیوں نہیں!تم نے ہی تو میری دیوار سے ایک اینٹ اور میرے کپڑے سے ایک دھاگا لیا تھا۔
اس طرح کے آثاروواقعات خائفین کےدلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔پس اگر تم حوصلہ اور عقل رکھتے ہواور دھوکا کھانے والوں میں سے نہیں ہو تو ابھی دنیا میں اپنے نفس پر رَحم کرو اور قبل اس کے