Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
244 - 784
 شخص اپنے کھانے اور جماع کرنے میں بھی طاعَتِ الٰہی بجالانے والا ہوگا۔
	نفس کو زیادہ رغبت کھانے اور جماع کی ہوتی ہے اور ان دونوں کاموں میں اچھی نیت کرنا اس شخص کے لئے مشکل نہیں جس کے دل پر فکرِ آخرت غالِب ہو،اسی لئے چاہئے کہ جب بندے کا مال ہلاک ہوجائے تو وہ اچھی نیت کرے اوریوں کہے:ھُوَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہیعنی  وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے راستے میں ہے ۔جب پتا چلے کہ کسی نے میری غیبت کی ہے تو دل میں خوشی ہوکہ غیبت کرنے والا میرے گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا اور اس کی نیکیاں میرے نامَۂ اَعمال میں منتقل ہوجائیں گی اور یہ نیت اس طرح کرے کہ جواب نہ دے بلکہ خاموشی اختیار کرے۔ چنانچہ
غیبت کرنے والا نقصان میں ہے:
	 حدیْثِ پاک میں ہے کہ’’بے شک بندے کا حساب لیا جائے گاتو اس کے اعمال آفت داخل ہونے کی وجہ سے باطل ہوجائیں گے حتّٰی کہ وہ جہنم کا مستحق ہوجائے گاپھر اس کے نیک اعمال کا دفتر کھولا جائے گا جس کی وجہ سے وہ جنت کا حق دار ہوجائے گا تو وہ شخص تعجُّب کرتے ہوئے کہے گا:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!یہ اعمال تو میں نے کبھی نہیں کئے۔ توکہا جائے گا:یہ ان لوگوں کے اعمال ہیں جنہوں نے تیری غیبت کی،تجھے تکلیف پہنچائی اور تجھ  پر ظُلْم کیا۔‘‘ (1 )
	ایک روایت میں ہے کہ’’بندہ قیامت کے دن پہاڑوں کے مثل نیک اعمال لائے گاکہ اگروہ سب اس کے ہوتے تو داخِلِ جنت ہوتالیکن وہ اس حال میں آئے گا کہ کسی پر ظلم کیا ہوگا،کسی کو گالی دی ہوگی،کسی کو مارا ہوگا،تو ان سب کو اس کی نیکیوں میں سے بدلہ دیا جائے گاحتّٰی کہ اس کے پاس کوئی نیکی بھی باقی نہیں رہے گی تو فَرِشتے کہیں گے:اس کی نیکیاں ختم ہوچکی ہیں لیکن مطالبہ کرنے والے ابھی باقی ہیں۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرمائے گا:ان کے گناہ اس پر ڈال دوپھر اسے جہنم کا پروانہ لکھ دو۔‘‘(2)
خلاصَۂ کلام:
	تم پر لازم ہے کہ اپنے کسی بھی فعل(کام)کو حقیر نہ سمجھو،ایسا نہ ہو کہ تم اس عمَلِ حقیر کے دھوکے اور 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…مساویٔ الاخلاق للخرائطی، باب ما جاء فی الغیبة من الکرامة،الجزء الثانی ،ص۱۰۶،حدیث:۱۹۹
	قوت القلوب،الفصل السابع والثلاثون فی شرح الکبائر…الخ،۲/ ۲۵۶
2…المعجم الاوسط،۲/ ۱۳۵،حدیث:۲۷۷۸ ……قوت القلوب،الفصل السابع والثلاثون فی شرح الکبائر…الخ،۲/ ۲۵۹،۲۵۸