Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
243 - 784
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہَ عَدْوًۢا بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ (پ۷،الانعام:۱۰۸) ترجمۂ کنز الایمان:اورانہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہکے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہکی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔   
	 آیتِ طیبہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ شر(برائی)کاسبب بننا بھی شرہے۔
	٭…خوشبو لگانے سے اپنے دماغ کے علاج(یعنی تقویت پہنچانے) کی نیت کرے تا کہ اس کی ذہانت و فطانت زیادہ ہو اور دین کے مشکل مسائل غور و فکر کے ذریعے سمجھنا آسان ہو۔
	حضرت سیِّدُناابوعبدُاللہ امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرماتے ہیں:’’جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے اس کی عقل زیادہ ہوتی ہے۔‘‘
	اس طرح کی نیتیں کرنے سے فقیہہ شخص عاجز نہیں بشرطیکہ اس کے دل پر تجارتِ اُخروی اور طلَبِ خیر کا غَلَبَہ ہو اور اگر اس کے دل پر دنیاوی آسائشیں ہی غالب ہوں تو یہ نیتیں اس کے دل میں موجود نہیں ہوسکتیں اور اگر کوئی بیان بھی کرے جب بھی اس کا دل ان کی طرف برانگیختہ نہیں ہوتا اگر نیت کرے بھی تو صرف حدیْثِ نفس اور خیال کے طور پر ہوتی ہے اورنیت سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔
	مباحات بہت زیادہ ہیں،ان میں نیتوں کا شمار نا ممکن ہے،لہٰذااس ایک مثال پر باقی سب کو قیاس کر لو۔
ہرمباح کام میں کوئی نیت ضرورہو:
	 کسی عارفبِاللہکاقول ہے:اِنِّیْ لَاَسْتَحِبُّ اَنْ یَکُوْنَ لِیْ فِیْ کُلِّ شَیْءٍ نِیَّةٌ حَتّٰی فِیْ اَ کْلِیْ وُ شُرْبِیْ وَ نَوْمِیْ وَ دُخُوْلِیْ اِلَی الْخَـلَاءِیعنی میں پسند کرتا ہوں کہ اپنے ہر کام میں حتّٰی کہ کھانے،پینے،سونےاور بیت الخلا(استنجاخانے) جانے میں بھی کوئی نیت کر لوں۔
	ان سب باتوں میںتَقَرُّب اِلَی اللّٰہ(یعنی قُرْبِ الٰہی کے حُصُول)کی نیت ہوسکتی ہے کیونکہ ہر وہ چیز جو بَدَن کی بقااور بَدَنی معاملات سے دل کے فارغ ہونے کا سبب ہو وہ دین پر مُعاوِن ہوتی ہے۔مثال کے طور پر جو شخص کھانا اس نیت سے کھائے کہ عبادت پر قوت حاصل ہواور جماع سے مقصود اپنے دین کی حفاظت اور اہلیہ کی دل جوئی اور نیک اولاد کا حصول ہو جواللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت کرے اور اس طرح اُمَّتِ محمدیہ میں اضافہ ہو تو وہ