جواب:جان لو!جو شخص جمعہ کے دن یا اوراوقات میں خوشبو لگائے تو ممکن ہے کہ اس کامقصوددنیاوی لذّات سے لطف اٹھاناہو یا کثرتِ مال کے ذریعے تفاخُر مقصود ہو تا کہ اس کے ساتھی اس پر حسد کریں یا لوگوں کو دکھانے کا ارادہ ہو تاکہ ان کے دلوں میں اس کی دھاک بیٹھ جائے اور خوشبو پسند آدمی ہونے کی جہت سے اس کا ذکر کیا جائے یایہ چاہتا ہو کہ اجنبی عورتوں کے دلوں میں محبوب ہوجاؤں جبکہ ان کی طرف دیکھنا جائز سمجھتا ہو،اس کے علاوہ بہت سی باتیں ہیں جو خوشبو لگانے کو معصیت بنادیتی ہیں اسی وجہ سے وہ مردار سے زیادہ بدبودار ہوگی سوائے پہلی صورت کے یعنی جب مقصودتلذُّذاورلُطف اندوز ہونا ہوکیونکہ یہ معصیت نہیں لیکن اس کے بارے میں سوال ہوگا اور جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلاہوگااورجو شخص دنیا کی کوئی مباح چیز استعمال کرتا ہے آخرت میں اگرچہ اسےعذاب تو نہیں دیا جائے گا لیکن اُتنی مقدار اُخروی نعمتیں کم کر دی جائیں گی اور خسارے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ بندہ فنا ہونے والی چیزوں کی طرف جلدی کرے اور ان کے بدلے میں ہمیشہ رہنے والی نعمتوں میں کمی کر کے نقصان اٹھائے۔
خوشبولگانے کی نیتیں:
٭…جمعہ کے دن سنَّتِ رسول کے اِتِّباع کی نیت کرے،٭…مسجد کی تعظیم اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کے احترام کی بھی نیت کرے، پس وہ یہ خیال کر ے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی زیارت کے لئے مسجد میں خوشبو لگا کر ہی جانا چاہئے،٭…اپنے پاس بیٹھنے والوں کو راحت پہنچانے کی نیت کرے تا کہ وہ مسجد میں میرے پاس بیٹھ کر خوشبو سے راحت حاصل کریں،٭…اپنے آپ سے ناپسندیدہ بُودور کرنے کی نیت کرے،٭…غیبت کرنے والوں پر غیبت کا دروازہ بند کرنے کی نیت کرے کیونکہ ناپسندیدہ بُو کی وجہ سے لوگ اس کی غیبت کرکے گناہ گار ہونگےاورجوغیبت کے درپے شخص کو غیبت سے بچانے پر قادرہو(لیکن نہ بچائے)تووہ بھی گناہ میں اس کا شریک ہے ،جیسا کہ کہا گیا ہے:
اِذَا تَرَحَّلْتَ عَنْ قَوْمٍ وَّ قَدْ قَدَرُوْا اَنْ لَّا تُفَارِقَھُمْ فَالرَّاحِلُوْنَ ھُمْ
ترجمہ:اگرتم کسی قوم سے کوچ کر لو حالانکہ وہ تمہیں اپنے سے جداکرنے پرقادرنہ ہوں تو وہی کوچ کرنے والے ہیں۔
اور ارشادِباری تعالیٰ ہے: