جو ان سے غافل ہے اور ان کاموں کو آوارہ چھوڑے پھرتے جانوروں کی طرح سہو(بھول) اور غفلت سے بجا لاتا ہے۔بندے کے لئے مناسب نہیں ہےکہ وہ کسی خطرے،قدم یا لمحے کو حقیر سمجھے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا کہ کیوں کیا؟اورکس نیت سے کیا؟یہ معاملہ ان مباح امور کا ہے جن میں کسی کراہت کا شائبہ نہیں،اسی وجہ سے،
حلال کا حساب اور حرام پر عذاب ہے:
حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:حَلَالُھَاحِسَابٌ وَّحَرَامُھَاعِقَابٌیعنی اس(دنیا)کے حلال کا حساب اور حرام پر عذاب ہے۔(1)
بروزقیامت ہرچیز کے بارے میں سوال ہوگا:
حضرت سیِّدُنامُعاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی حدیث میں ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اِنَّ الْعَبْدَ لَـیُسْاَلُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَنْ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰی عَنْ کُحْلِ عَیْنَیْہٖ وَعَنْ فُتَاتِ الطِّیْنَةِ بِاُصْبُعِہٖ وَعَنْ لَمْسِہٖ ثَوْبَ اَخِیْہٖیعنی بےشک بندے سے بروزِ قیامت ہرچیز کے بارے میں پوچھا گا حتّٰی کہ اپنی آنکھوں میں سرمہ لگانے ، انگلی سے زمین کریدنے اور اپنے بھائی کا کپڑا چھونے کے بارے میں بھی۔(2)
ایک روایت میں ہے:جو شخص رضائے الٰہی کے لئے خوشبو لگائے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی خوشبو مشک سے زیادہ عُمدہ ہوگی اور جوغَیْرُاللہ کے لئے خوشبو لگائے گاوہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی خوشبو مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوگی۔(3)
معلوم ہواکہ خوشبو لگانامباح کام ہے لیکن اس میں بھی نیت ضروری ہے۔
ایک اعتراض اور اس کا جواب:
خوشبو لگانا کسی نفسانی فائدے کے لیے ہی ہوتا ہے،لہٰذا کوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے کیسے خوشبو لگائے گا؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کتاب الزھد لابی داود، اخبار علی بن ابی طالب وزھدہ،ص۱۱۹، حدیث:۱۱۶ ،’’عقاب‘‘بدلہ’’ عذاب‘‘
2…حلیة الاولیاء، احمد بن الحواری،۱۰/ ۳۱،حدیث:۱۴۴۰۶……قوت القلوب،الفصل السابع والثلاثون فی شرح الکبائر…الخ،۲/ ۲۷۳
3…المصنف لعبد الرزاق، کتاب الصیام، باب المراة تصلی ولیس فی رقبتھا قلادة وتطیب الرجال،۴/ ۲۴۷،حدیث:۷۹۶۳