Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
240 - 784
٭…چھٹی نیت:اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر(یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے)کی صورت میں علم کا فائدہ پہنچانے کی نیت کرے کیونکہ مساجد میں ایسےلوگ بھی ہوتے ہیں جونمازدرست نہیں پڑھتے یا ناجائز امور کا اِرتکاب کرتے ہیں تو یہ انہیں نیکی کاحکم دے  اور دین کا راستہ بتائے  تاکہ جو خیر کی بات وہ اس سے سیکھیں یہ اس میں شریک ہو اور اس طرح اس کی نیکیوں میں اضافہ ہو۔
٭…ساتویں نیت:کسی دینی بھائی سے اِستفادہ کی نیت کرے کیونکہ یہ غنیمت اور آخرت کا ذخیرہ ہے اور مسجدیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے محبت کرنے والے دین داروں کے پائے جانے کی جگہیں ہیں۔
٭…آٹھویں نیت:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حیا کرتے ہوئے گناہ چھوڑ دے اور اس بات سے ڈرے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے گھر میں کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے اس کی عزت پامال ہوتی ہو۔
مسجد میں آنے والا محروم نہیں رہتا:
	نواسَۂ رسول،جگرگوشَۂ بَتُول حضرت سیِّدُناامام حسن بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:جوشخص مسجد میں آنے جانے کا عادی ہوتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے سات خصلتوں میں سے ایک ضرورعطا فرماتا ہے:(۱)…ایسا بھائی ملتا ہے جس سے معرفَتِ الٰہی سے متعلق اِستفادہ کیا جائے(۲)… یارحمت کا نزول ہوتا ہے(۳)…یا عمدہ و اعلیٰ علم حاصل ہوتا ہے(۴)… یاایسی بات سیکھنے کو ملتی ہے جو راہِ راست کی طرف راہ نمائی کرتی ہے(۵)…یا ہلاکت سے بچاتی ہے(۶)…یا وہ خوفِ خدا(۷)…یا حیاکی وجہ سے گناہ چھوڑ دیتا ہے۔
	تو بھلائی کے کاموں میں بہت سے نیتیں کی جاسکتی ہیں تمام عبادات و مباحات کواسی پر قیاس کر لیا جائے کیونکہ کوئی عبادت ایسی نہیں جس میں بہت سی نیتیں نہ ہوسکتی ہوں اور بندۂ مومن کے دل میں اسی قدر نیتیں حاضر ہوتی ہیں جتنی وہ طلَبِ خیر میں کوشش اورغورو فکر کرے اور اس کے لئے کمر بستہ ہو ،اس طرح اعمال پاکیزہ ہوتے اور نیکیاں بڑھتی ہیں۔
تیسری قسم:مُباحات(جائزامور)
	ہر مباح(جائز) کام میں ایک یا اس سے زیادہ نیتیں ہوسکتی ہیں جن کی وجہ سے وہ مباح کام عُمدہ عبادات میں سے ہوجاتا ہے اور ان کی وجہ سے بلند درجات حاصل ہوتے ہیں تو وہ شخص بہت بڑے خسارے میں ہے