شافعی، امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حنبل رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی محبت ہوتی ہے حتّٰی کہ بعض اوقات آدمی کی اپنے فقہی امام سے محبت حدِ عشق سے بھی تجاوز کر جاتی ہے اور وہ اس محبت کی وجہ سے اپنا تمام مال اپنے مذہب کی تائیداور اس کے دفاع میں خرچ کر ڈالتا ہے اور جو اس کے امام پر طعن کرتا ہے اس کے ساتھ لڑنے مرنے کے لئےتیار ہوجاتا ہے اورفقہی اماموں کی تائیدونصرت میں کتنے ہی خون بہا ئے جا چکے ہیں۔
بن دیکھے نیک بندوں کی محبت:
اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ حضرتِ سیِّدُناامام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیسے محبت کرنے والا ان سے محبت کیوں کرتا ہے؟ حالانکہ اس نے ان کی صورت دیکھی نہیں۔ پھر اگر وہ ان کو دیکھ لے تو ممکن ہے ان کی صورت اس کو اچھی نہ لگے،لہٰذا وہ حُسن جس نے اس شخص کو ان سے انتہائی محبت کرنے پر ابھارا وہ ان کی باطنی صورت کی وجہ سے ہے، ظاہری صورت کی وجہ سے نہیں۔ کیونکہ ان کی ظاہری صورت تو مٹی کے سپُرد ہوگئی اور یہ ان سے فقط ان کی باطنی صفات جیسے دین،تقویٰ،وسیع علم،اُمورِ دینیہ سے واقفیت،علمِ شرعی اور اُمورِ خیر کی دنیا میں نشر و اشاعت کے لئےکمر بستہ ہونے کی بنا پر محبت کرتا ہے اور یہ تمام باتیں خوبصورت ہیں اور ان کے جمال کا ادراک باطنی نور کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے جبکہ ظاہری حواس ان کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں ۔
یوں ہی جو شخص حضرتِ سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت کرتا ہے اور ان کو دوسروں پر فضیلت دیتا ہے یا حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے محبت کرتا ہے اور ان کو دوسروں پر فضیلت دیتا ہے اور ان کی خاطر تَعَصُّب رکھتا ہے تو وہ ان سے ان کی باطنی صورتوں یعنی علم، دین، تقویٰ، شُجاعت اور سخاوت وغیرہ کی وجہ سے ہی محبت کرتا ہے۔ پتاچلا کہ جو شخص حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت کرتا ہے وہ ان کی ہڈیوں،گوشت،کھال،اعضاء اورشکل و صورت سے محبت نہیں کرتا کیونکہ یہ چیزیں توآنکھوں سے اوجھل ہوگئیں لیکن وہ صفات باقی ہیں جن کی وجہ سے وہ صدیق تھے اور وہ صفاتِ محمودہ ہیں جو سیرتِ جمیلہ کی بنیاد ہیں تو ان صفات کے باقی رہنے کی وجہ سے محبت باقی ہے اور ان تمام صفات کا مرجع علم اور قدرت ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اشیاء کی حقیقتوں کو جانا اور خواہشات پر غلبہ پاکر نفس کو ان صفات کے ساتھ متصف ہونے پر ابھارا۔ پس تمام نیک عادات انہی دو صفات سے نکلتی ہیں اور