Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
238 - 784
کاموں) کے ساتھ خاص ہے گناہوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ نیت کی وجہ سے عبادت، گناہ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور مباح کام نیت کی وجہ سے گناہ اورعبادت بن جاتا ہے لیکن گناہ، نیت کی وجہ سے کسی طرح بھی نیکی میں نہیں بدل سکتا البتہ نیت کا اس میں کچھ عمل دخل ہوتا ہے وہ یہ کہ جب اس کے ساتھ کئی خبیث نیتیں مل جائیں تو اس کا گناہ اور وبال بڑھ جاتا ہے جیسا کہ ہم نے توبہ کے باب میں بیان کیا ہے۔
دوسری قسم: طاعات
	عبادات اپنی اصْلِ صحت اور ثواب کی زیادتی میں نیت کے ساتھ مربوط(ملی ہوئی) ہیں ۔جہاں تک اصْلِ صحت کا تعلُّق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ صرف عبادتِ الٰہی کی نیت سے وہ عمل بجا لائے کسی اور کے لیے نہیں۔پس اگر ریا(دکھاوے) کی نیت کرے گا تو وہ عمل مَعْصِیَّت(نافرمانی) ہوجائے گا اوررہا ثواب میں اضافہ تو اس کی صورت یہ ہے کہ ایک عَملِ خیر میں کئی نیتیں کرے کیونکہ ایک نیک کام میں کئی اچھی نیتیں کی جا سکتی ہیں اور  ہر نیت کا ثواب ملے گا کیونکہ ان میں سے ہر نیت ایک نیکی ہے پھر ہر نیکی کا ثواب 10گنا بڑھ جاتا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں وارد ہے۔(1)مثال کے طور پر کوئی شخص مسجد میں بیٹھے تویہ ایک ثواب کا کام ہے اور وہ اس میں کئی نیتیں کر سکتا ہے حتّٰی کہ اس کی وجہ سے متقین کے اعمال کا ثواب حاصل کرسکتا اور  مُقَرَّبِیْن کے درجات تک پہنچ سکتا ہے۔
مسجدمیں بیٹھنے کی آٹھ نیتیں:
٭…پہلی نیت:اس بات کا اعتقاد رکھے کہ یہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا گھر ہے اور اس میں داخل ہونے والااللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی زیارت کرتاہے،لہٰذامسجد میں بیٹھنے والازیارتِ الٰہی کی نیت سے بیٹھے اورپیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو وعدہ فرمایاہے اس کے حصول کی امید رکھے۔چنانچہ
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے پیارے حبیب،حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:مَنْ قَعَدَ فِی الْمَسْجِدِ فَقَدْ زَارَاللّٰہَ تَعَالٰی وَحَقٌّ عَلَی الْمَزُوْرِ اِکْرَامُ زَائِرِہٖیعنی جو مسجد میں بیٹھا تحقیق اس نےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی زیارت کی اورجس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…بخاری، کتاب الایمان، باب حسن الاسلام المرء،۱/ ۲۷،حدیث:۴۱