علمائے سلف کا یہ طریقہ تھا کہ جو شخص ان کے پاس آتا جاتا تھاوہ اس کے احوال کی نگرانی کیا کرتے تھے اگر اس سے نفلی امور میں بھی کوتاہی دیکھتے تو اسے برا جانتے اور اس کی تعظیم ترک کر دیتےاور اگر اس سے کوئی گناہ یا حرام کو حلال سمجھنا دیکھتے تو اسے چھوڑ دیتے،اپنی مجالس سے نکال دیتے اور اس سے گفتگو ترک فرما دیتے چہ جائیکہ اسے علم سکھائیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جو شخص کوئی مسئلہ سیکھتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا بلکہ اس سے غیر کی طرف تجاوز کرتا ہے تو وہ صرف شَر کا آلہ تلاش کرتا ہےاور تمام سلف صالحین نے سُنَّت کے عالِم بدکارشخص سے توپناہ مانگی ہے لیکن جاہل بدکار سے پناہ نہیں مانگی۔
حکایت:ایک طالب علم کی اصلاح
منقول ہےکہ ایک شخص حضرت سیِّدُناامام احمدبن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل کے پاس(حصولِ علم کے لئے) کئی سال تک آتا جاتا رہا،اِتِّفاقاًایسا ہواکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے منہ پھیر لیا،اسے چھوڑ دیاحتّٰی کہ اس سے گفتگو تک نہ فرماتے وہ مسلسل آپ سے اس تبدیلی کا سبب پوچھتا لیکن آپ جواب نہ دیتےآخرِ کار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے سڑک کی جانب سے اپنی دیوار کو لیپا ہےاورسڑک کے کنارے سے قدِآدم کے برابر مٹی لی ہے حالانکہ وہ مسلمانوں کی عام گزرگاہ ہے اس لئے تم علم منتقل کئے جانے کے قابل نہیں ہو۔
توسلف صالحین اس طرح طالبانِ علم کے احوال کی نگرانی کیاکرتے تھے۔
اس طرح کی مثالیں غبی(کم عقل) لوگوں اور شیطان کے پیروکاروں پر مخفی رہتی ہیں اگرچہ ان پر وسیع آستینوں والے بڑے بڑےجبے ہوں،زبان دراز اور کثیر علم رکھتے ہوں یعنی ایسا علم جو دنیا سے زَجر و توبیخ کرنے اور آخرت کی ترغیب دلانے پر مشتمل نہ ہو بلکہ وہ علم جو مخلوق سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے ذریعے مالِ حرام جمع کرنا، لوگوں کا پیشوا بننا اور ہم عصروں سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
خلاصَۂ کلام:
فرمانِ مصطفٰے: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتیعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔(1)یہ طاعات ومباحات(یعنی نیک اورمباح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ،۱/ ۵،حدیث:۱