کاش!میں جان لیتا کہ اس کا جواب کیا ہوگاجو شخص کسی راہ زن کو تلوار ہبہ کرے اور اس کے ساتھ گھوڑا اور دیگر اسباب بھی مہیا کردے جن سے وہ اپنے مقصود پر مدد حاصل کرے ،اب یہ شخص کہے کہ میں نے سخاوت اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے اخلاقِ جمیلہ کو اپنانے کا ارادہ کیا ہے اور میری یہ نیت تھی کہ وہ شخص اس تلوار اور گھوڑے کے ساتھ راہِ خدا میں جہاد کرے کیونکہ غازیوں کو گھوڑےاور قوت فراہم کرنا اعلیٰ درجے کی نیکی ہے ،اب اگر وہ ان چیزوں کو راہ زنی میں استعمال کرے تو وہ خود گناہ گار ہوگا۔
سب سے پسندیدہ خُلق:
فقہا کااس پر اجماع ہے کہ یہ(یعنی راہ زن کی مدد کرنا)حرام ہے حالانکہ سخاوت اللہ عَزَّ وَجَلَّکوبے حد محبوب ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اِنَّ لِلّٰہِ ثَلَاثُمِائَةِ خُلُقٍ مَّنْ تَقَرَّبَ اِلَیْہِ بِوَاحِدٍ مِّنْھَا دَخَلَ الْجَــنَّةَ وَاَحَبُّھَا اِلَیْہِ السَّخَآءُیعنی بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّکے300اخلاق ہیں جو ان میں سے کسی ایک کے ذریعےاللہعَزَّ وَجَلَّکا قرب حاصل کرے گا داخِلِ جنَّت ہوگا اوران میں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ سخاوت ہے۔(1)
کاش!میں جان لیتا کہ اس سخاوت کو کیوں حرام کیا گیاہے؟اور اس ظالم راہ زن کے حال کو دیکھنا اس شخص پر کیوں واجب ہے ؟لہٰذاجب اس پر اس (راہ زن) کی عادت ظاہر ہوگئی کہ وہ ہتھیاروں سے فساد پر مدد لیتا ہے تو اس سے ہتھیار لے لینے کی کوشش کرنی چاہئے نہ یہ کہ ہتھیار دے کر اس کی مدد کی جائے۔
علم بھی ایک ہتھیار ہے:
علم بھی ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے شیطان اور دشمنانِ خدا کے خلاف جنگ کی جاتی ہے،بعض اوقات اس کے ذریعےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے دشمنوں مثلاً:خواہِشِ نفس کو مدد ملتی ہے تو جو شخص ہمیشہ اپنی دنیا کو دین پر اور خواہِشات کو آخرت پر ترجیح دیتا ہو اورکم علمی کے سبب مقصودتک پہنچنے سے عاجز ہو تو کسی ایسےعلم کے ذریعے اس کی مدد کرنا کیسے جائز ہوگا جس کی وجہ سے وہ اپنی خواہِشات کے حصول پر قادر ہوجائے ؟بلکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا،ص۳۴، حدیث:۲۸ …… قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ،۲/ ۱۲۸،۱۲۷