لِلْجَاھِلِ اَنْ یَّسْکُتَ عَلٰی جَھْلِہٖ وَلَا لِلْعَالِمِ اَنْ یَّسْکُتَ عَلٰی عِلْمِہٖیعنی جاہل، جہالت کی وجہ سے معذور نہیں سمجھا جائے گا اور جاہل کے لئے اپنی جہالت پر خاموش رہنا جائز نہیں اور نہ ہی عالِم کے لئے اپنے علم پر خاموش رہنا جائز ہے۔(1)
راہِ خدا کے راہ زن:
جو بادشاہ بَنِیَّتِ تقرُّب(یعنی ثواب کی نیت سے) مالِ حرام سے مساجدومدارس بناتے ہیں ان کے قریب وہ علمائے سوء(برے علما)ہوتے ہیں جو تقرُّب(ثواب) کے لئے بے وقوفوں،شریروں،فسق و فجور میں مشغول لوگوں کو علم سکھاتے ہیں، جن کاکام صرف یہ ہوتا ہے کہ علما سے جھگڑااوربے وقوفوں سے مقابلہ کریں، لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کریں،دنیا کا مال جمع کریں،بادشاہوں،یتیموں اور مسکینوں کے مال پر قبضہ کریں، یہ لوگ جب علم حاصل کر لیتے ہیں توراہِ خدا کے راہ زن(لوٹ مار کرنے والے) بن جاتے ہیں،ان میں سے ہر ایک اپنے شہر میں دَجّال کا نائب ہو کر اٹھتا،دنیا پر حریص ہوتا،خواہشات کا تابع اور تقوٰی سے دور ہوتا ہے، انہیں دیکھ کر لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی پر دلیر ہوجاتے ہیں پھر یہ علم ان کی مثل اور لوگوں تک پہنچتا ہے وہ بھی اس کو شر اور اِتِّباعِ نفس کا آلہ اور ذریعہ بناتے ہیں یوں یہ سلسلہ برابر چلتا رہتا ہے اوران سب کاوَبال اس مُعَلِّم (سکھانے والے)پر پڑتا ہے جو ایسے لوگوں کو ان کی فسادِ نیت و ارادہ معلوم ہونے اور ا ن سے قول، فعل، کھانے،پہننےاور رہنے کے متعلق طرح طرح کے گناہوں کا مشاہدہ کرنے کے باوجود علم سکھائے۔پس یہ عالِم تو دنیا سے چلا جائے گا لیکن اس کے شر کے آثارسالہاسال تک دنیا میں پھیلتے رہیں گے جبکہ وہ شخص قابلِ رشک ہے جس کی موت کے ساتھ اس کے گناہوں کا بھی خاتمہ ہوجا ئے پھر تعجب ہے اس کی جہالت پر کہ کہتا ہے:’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتیعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘میں نے تو اس سے دین کی نشر و اشاعت کا ارادہ کیا ہے،اب اگر کوئی اس علم کو فساد میں استعمال کرتا ہے توقصور اس کا ہے میرا نہیں میراارادہ تو یہی تھاکہ وہ اس سے امورِخیرپر مدد حاصل کرے۔اس کے قول کامنشا ریاست اورمقتدا(پیشوا)بننے کی محبت اور کثرتِ علم پر فخر کرنا ہے ان باتوں کو وہ اپنے دل میں اچھاسمجھتا ہے اور شیطان حُبِّ ریاست کے ذریعے اسے دھوکادیتا ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المعجم الاوسط،۴/ ۱۰۶،حدیث:۵۳۶۵ …… قوت القلوب،الفصل السابع والثلاثون فی شرح الکبائر…الخ،۲/ ۲۵۸