Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
234 - 784
 شریعت کادشمن ہے اور اگر جہالت کی وجہ سے کرے گا تو اپنی جہالت کی وجہ سے گناہ گار ہوگا کیونکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور افعالِ خیر کا خیر ہونا شرع سے ہی معلوم ہوتا ہے تو جو شر ہے وہ خیر کیسے ہو سکتا ہے ؟ایسا ہونا بہت بعید ہے،بلکہ شہوتِ خفی اور خواہِشِ باطنی اسے دل کے سامنے مُزَیَّن کرتی ہیں کیونکہ دل جب حصولِ جاہ اور لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور تمام نفسانی فوائد کی طرف مائل ہوتا ہے تو جاہل شخص کو دھوکا دینے کے لیے شیطان کو موقع مل جاتا ہے۔
جہالت سے بھی سخت تر:
	 اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا سہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:جہالت سے بڑھ کر کسی اور گناہ سےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نافرمانی نہیں کی گئی۔ عرض کی گئی:اے ابو محمد!کیا آپ کے نزدیک جہالت سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟فرمایا:ہاں!اپنی جہالت سے جاہل رہنا۔
	آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دُرُست فرمایاکیونکہ اگراپنے جاہل ہونے کا علم بھی نہ ہو تو اس کی وجہ سے علم سیکھنے کا دروازہ بالکل بند ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پرجو شخص خود کوعالِم سمجھتاہووہ عِلْم کیوں سیکھے گا؟اسی طرح طاعاتِ الٰہی کے کاموں میں سب سے افضل علم ہے اور اصْلِ علم،علم کے بارے میں علم ہونا ہے جس طرح اصْلِ جہالت،اپنی جہالت سے جاہل رہنا ہےکیونکہ جو شخص عِلْمِ نافع اورعِلْمِ ضار(یعنی مفید ونقصان دہ علم) میں فرق نہیں کر سکتا وہ ان بناوٹی مُزَیَّن عُلُوم میں مشغول ہوجائے گا جن میں لوگ مشغول ہیں اور وہ حصولِ دنیا کے اسباب ہیں اس لئے وہ جہالت کا مادہ اورعالَم کےفساد(بگاڑ)کاشرچشمہ ہے۔
خلاصَۂ کلام:
	جو شخص بر بنائے جہالت گناہ سے خیر کا ارادہ کرے وہ معذور نہیں سوائے یہ کہ وہ نو مسلم ہو اور علم سیکھنے کاابھی تک موقع نہ ملاہو۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ (پ۱۴،النحل:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تواے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔
	سرکارِمدینہ،قرارِقلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:لَایُعْذَرُالْجَـاھِلُ عَلَی الْجَـھْلِ وَلَایَحِلُّ