Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
233 - 784
شریک ہیں۔(1)جیسا کہ گزر چکا ہے کیونکہ ان کے دلوں میں خیر کا ،مال و جان خرچ کرنے کا،طلَبِ شہادت میں رغبت کااور دِیْنِ اسلام کی سر بلندی کا سچا ارادہ ایسے ہی تھا جیسے ان لوگوں کے دلوں میں تھا جو جہاد کے لئے نکلے تھے،پیچھے رہ جانے والےجسمانی طور پر چند مخصوص مَوانع کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے جن کا تعلق دل سے نہیں اور دل سے تعلق نہ رکھنے والے امور صرف صفات کی تاکید کے لئے مطلوب ہوتے ہیں۔
	اِن معانی کی رُو سے اُن تمام اَحادیث کو سمجھا جا سکتا ہے جو ہم نے نیت کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی ہیں،لہٰذاان احادیث کو اِن معانی کے مطابق کر لو تا کہ ان کے اَسرار تم پر منکشف ہوجائیں ، ہم انہیں دوبارہ ذکر کرکے کلام کو طول نہیں دینا چاہتے۔
چوتھی فصل:		نِیَّت سے مُتَعَلِّق اَعمال کی ترجیح کا بیان
        جان لیجئے کہ اگرچہ اعمال کی بہت سی اقسام ہیں۔مثلاً:قول،فعل،حرکت،سُکُون،فائدے کا حصول، دفْعِ ضَرَر،فکراورذکروغیرہ اتنے افعال ہیں کہ انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا لیکن اصل میں ان کی تین قسمیں ہیں:(۱)…طاعات(۲)…مَعاصی(۳)…مُباحات۔
پہلی قسم:معاصی(گناہ)
	نیت کی وجہ سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اس لئے کسی جاہل کوفرمانِ مصطفٰے:’’اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتیعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘(2)کے عموم سے یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ نیت کی وجہ سے گناہ،نیکی میں تبدیل ہوجائے گا،جیسے ایک شخص کسی کا دل خوش کرنے کی خاطر کسی دوسرے کی غیبت کرے یا غیر کے مال سے کسی فقیر کو کھلائے یا حرام مال سے کوئی مدرسہ یا مسجد یا سرائے بنائے اور اس کا ارادہ نیکی کا ہو تویہ سب باتیں جہالت پر مبنی ہیں اور نیت انہیں  ظلم،زیادتی اور گناہ ہونے سے نکالنے میں مؤثر نہیں ہوگی بلکہ مقتضائے شرع کے خلاف بُرے کام سے خیر کا ارادہ کرنا دوسری بُرائی ہے اگر جانتے ہوئے ایسا کرتا ہے تو وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…بخاری، کتاب المغازی، باب رقم۸۳، ۳/ ۱۵۰،حدیث:۴۴۲۳
	سنن ابی داود، کتاب الجھاد، باب فی الرخصة فی القعود من العذر،۳/ ۱۷،حدیث:۲۵۰۸
2…بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ،۱/ ۵،حدیث:۱