پھیر رہا ہے تو ایسے اعمال کی تاثیر اعضاء سے دل تک نہیں پہنچتی کہ جس سے رقَّتِ قلبی پختہ ہو،اسی طرح جو شخص غفلت کی حالت میں سجدہ کرے یوں کہ دل دنیاوی فکروں میں مشغول ہو تو اس کی پیشانی اور اس کو زمین پر رکھنے سے اس کے دل پر کوئی تاثیر نہیں ہوگی کہ جس سے تواضع پختہ ہو،تو اس طرح سجدے کا ہونا نہ ہونے کی طرح ہے اورمطلوبہ غرض کے اعتبار سے جس عمل کا وجود اور عدم برابر ہو اسے باطل کہتے ہیں،پس کہا جائے گا کہ عبادت نیت کے بغیر باطل ہے اور یہ معنیٰ اس وقت ہوگا جب عمل غفلت کے ساتھ ہو اور اگر مقصود ریا کاری یا کسی دوسرے شخص کی تعظیم ہو تو اس کا وجودعدم(نہ ہونے)کی طرح نہیں ہوگا بلکہ برائی میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ جس صِفَت کی پختگی مطلوب تھی وہ تو نہ پائی گئی بلکہ جس صِفَت کاقَلْع قَمْع کرنا مقصود تھا وہ پختہ ہوگئی اور وہ صِفَت ریا ہے جو میلانِ دنیا میں داخل ہے، اس وجہ سے نیت عمل سے بہتر ہے۔
اسی سے اس فرمانِ مصطفٰے کو سمجھا جاسکتا ہے:مَنْ ھَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَـہٗ حَسَنَةٌ یعنی جو کسی نیکی کا ارادہ کرے لیکن کر نہ سکےتو اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔(1)
اس لئے کہ دل کا ارادہ کرنا ہی خیر کی طرف میلان اور حُبِّ دنیا و خواہشات سے انحراف کرنا ہے جو کہ اعلیٰ درجے کی نیکی ہے اور عمل کے ذریعے اس کی تمامیت اس کی تاکید کو بڑھاتی ہےتو قربانی کا خون بہا نے سے مقصود خون اور گوشت نہیں بلکہ حُبِّ دُنیا سے دل کا پھر جانا اور رضائے الٰہی کو ترجیح دیتے ہوئے مال خرچ کرنا ہوتا ہے اور یہ بات پختہ نیت اور ارادے کے وقت ہی حاصل ہوجاتی ہے اگرچہ کسی مانع(رُکاوٹ) کی وجہ سے عمل نہ کر سکے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس خون اور گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تقوٰی پہنچتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ(پ۱۷،الحج:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہکو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
اورتقوٰی دل میں ہوتا ہے۔اسی لئےحضورنبیّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اِنَّ قَوْمًا بِالْمَدِیْنَةِ قَدْ شَرِکُوْنَا فِیْ جِھَادِنَایعنی بے شک کچھ لوگ مدینے میں رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ جہاد میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب الایمان، باب اذا ھم العبد بحسنة کتبت…الخ،ص۷۹،حدیث:۱۳۰