Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
231 - 784
	ایک روایت میں ہے:اَللّٰھُمَّ اصْلِحِ الرَّاعِی وَالرَّعِیَّةَیعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ حاکم ورعیت کی اصلاح فرما۔(1)
	اس روایت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےراعی(حاکم) سے دل مرادلیااورفرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ (پ۱۷،الحج:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہکو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔ 
	اورتقوٰی دل کی صِفَت ہےتو اس اعتبار سے ضروری ہے کہ تمام قلبی اعمال اعضاء کی حرکات سے افضل ہوں پھر ضروری ہے کہ ان تمام میں سے نیت افضل ہو کیونکہ نیت نام ہے دل کا خیر کی طرف میلان اور اس کا ارادہ کرنااور اعمالِ جوارح سے غرض یہ ہوتی ہے کہ دل کو ارادۂ خیر کا عادی بنایا جائے اور اس کے اندر خیرکے میلان  کو پختہ کیا جائے تا کہ یہ دنیاوی خواہشات سے خالی ہو کر ذکر و فکر میں مشغول ہو،لہٰذا غرض کے اعتبار سے وہ(یعنی نیت اعمالِ جوارح)سے لازماً بہتر ہے اور یہ اس طرح ہے جیسے معدے میں اگر درد ہو تو اس کے علاج کا طریقہ یہ ہے کہ سینے پر لیپ کیا جائے یاایسی دوائی پی جائے جو معدے تک پہنچےتولیپ کی بنسبت دوا پینازیادہ  بہتر ہے کیونکہ لیپ سے بھی مقصود یہی ہوتا ہے کہ اس کا اثر معدے تک پہنچے تو جو چیز عیْنِ معدہ سے مل جائے وہ زیادہ بہتر اور نفع مند ہوگی۔
	تمام عبادات کی تاثیر کو اسی طرح سمجھ لینا چاہئے کیونکہ ان سے مقصود صرف دل اور اس کی صفات میں تبدیلی لانا ہوتا ہے اعضاء میں تبدیلی مطلوب نہیں ہوتی،تو تم یہ گمان نہ کرو کہ پیشانی کو زمین پر رکھنے کی ایک غرض ہے اوروہ پیشانی اور زمین کو جمع کرنا ہے بلکہ بحکْمِ عادت اس کی وجہ سے صِفَتِ تواضُع دل میں پختہ ہوتی ہے کیونکہ جو شخص اپنے دل میں تواضع پائےاور وہ اپنے اعضاء سے عاجزی کرے اور تواضع کی سی صورت بنائے تو اس کی تواضع پختہ ہوجائے گی اور جو شخص اپنے دل میں یتیم پر ترس کھانا پائے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرے،اس کا بوسہ لے تو اس کے دل میں یہ صفت پختہ ہوجائے گی ،اسی لئے نیت کے بغیر عمل کچھ مفید نہیں کیونکہ جو یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے حالانکہ اس کا دل غافل ہو یا یہ گمان کرے کہ کسی کپڑے پر ہاتھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حلیة الالیاء، الجنید بن محمد الجنید،۱۰/ ۳۰۴،حدیث:۱۵۳۰۳