ہوتا ہے۔ پس اگر وہ میلان کے تقاضے پر عمل کرتے ہوئے علم ،ریاست اور اس کے لئے مطلوبہ اعمال میں مشغول ہو تو اس کا میلان پختہ اور راسخ ہوجاتا ہے اور اس سے جدا ہونا اس پر دشوار ہوجاتا ہے اور اگر وہ مقتضائے میلان کے خلاف کرے تو اس کا میلان مزیدکمزور ہوجاتا ہے اور اکثر تو ختم ہی ہوجاتا ہے ۔مثلاً:جو شخص کسی خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتا ہے تو اس کی طبیعت میں دیکھنے کا کمزور سا میلان پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر میلانِ طبعی کے تقاضے پر عمل کرے اورکثرت سے اسے دیکھے،اس کے پاس بیٹھے،گفتگو کرے تو اس کا میلان پختہ ہوجائے گاحتّٰی کہ معاملہ اس کے اختیار سے نکل جائے گا لیکن میلان کو اپنے آپ سے دور نہیں کر سکے گا اور اگر ابتدا میں ہی اپنے نفس کو باز رکھے اور مقتضائے میلان کا خلاف کرے تو یہ ایسا ہوگا گویا کہ میلان کی غذا منقطع کردی تو اس وجہ سے میلان کمزور ہوجاتا بلکہ ٹوٹ کر ختم ہوجاتا ہے اور یہی حال تمام صفات ،خیرات اور عبادات کا ہے جن سے آخرت کا قصد کیا جاتا ہے اس کے برخلاف برائیوں سے دنیا کاارادہ کیا جاتا ہے نہ کہ آخرت کا۔
اُخروی بھلائیوں کی طرف نفس کا مائل ہونا اور دنیاوی امور سے پھرنا بھی دل کو ذکر وفکر کے لئے فارغ کردیتا ہے اور اس میں پختگی اسی وقت ہوتی ہے جب اعمالِ خیر پر ہمیشگی ہواور اعضاء سے گناہوں کا اِرتِکاب ترک کیا جائے کیونکہ دل اور اعضاء کے درمیان ایک تعلُّق ہے یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کا اثر لیتے ہیں تم دیکھو گے کہ اگر کسی عضو کو زخم پہنچے تو اس کی وجہ سے دل کو درد پہنچتا ہے اور جب کسی عزیز کی موت یا خوفناک بات کی وجہ سے دل کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا اثر تما م اعضاء پر پڑتا ہے بدن کانپ اٹھتا ہے اور رنگ مُتَغَیر ہوجاتا ہے،ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ دل اصل اور متبوع ہے گویا کہ یہ امیر اور راعی ہے جبکہ اعضاء خُدّام،رعایا اور تابع ہیں۔پس صِفاتِ قلبی کو پختہ کرنے کے اعتبار سے اعضاء دل کے خادم ہیں۔
گوشت کا ایک ٹکڑا:
اَلْغَرَض مقصود دل ہی ہے جبکہ دیگر اعضاء مقصود تک پہنچانے والے اسباب ہیں اسی وجہ سے حضورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ لَھَاسَآئِرُ الْجَسَدیعنی بے شک جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگروہ درست ہو تو اس کی وجہ سے تمام بدن درست رہتا ہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبرأ لدینہ،۱/ ۳۳،حدیث:۵۲