بعض کمالات موجود ہیں تواس کا حسن وجمال اسی قدر ہوگا۔چنانچہ، خوبصورت گھوڑا وہ ہے کہ جس میں وہ تمام باتیں جمع ہوں جو ایک گھوڑے میں ہونی چاہئیں جیسےشکل و صورت،رنگ،عمدہ رفتاراور اس پر سوار ہوکر حملہ کرنا اور پلٹنا آسان ہو اور اچھا خط وہ ہے جس میں خط کے لائق تمام باتیں جمع ہوں جیسے حروف کا مناسب اور متوازی ہونااور ان کی ترتیب اور انتظام عمدہ ہونا۔
پھریہ کہ شے کا ایک کمال ہے جو اس کے مناسب ہوتا ہے اور بعض اوقات دوسری چیز میں اس کی ضد لائق ومناسب ہوتی ہے تو ہر چیز کا حُسن اس کے کمال میں ہے جو اس چیز کے لائق ہے۔ اسی وجہ سے انسان کا حُسن ان چیزوں سے نہیں ہوتا جن سے گھوڑے کا حُسن ہوتا ہے اور جس کے ساتھ آواز کا حسن ہوتا ہے اس کے ساتھ خط کا حسن نہیں ہوتا اوربرتنوں کا حُسن ان چیزوں کے ساتھ نہیں ہوتا جن کے ساتھ کپڑوں کا حُسن ہوتا ہے اوریہی معاملہ تمام اشیاء کا ہے۔
اشکال اور اس کا جواب:
اگرچہ ان تمام اشیاء جیسے آوازیں اور ذائقے وغیرہ کا اِدراک آنکھ سے نہیں کیا جاتا لیکن یہ حواس کے ادراک سے جدا نہیں ہیں لہٰذا یہ محسوسات ہی قرارپائیں اور محسوسات کے حُسن و جمال کا انکار نہیں اور نہ ہی ان کے حسن کے ادراک سے لذت حاصل ہونے کا انکار ہے بلکہ انکار تو ان چیزوں کے حسن و جمال کا ہے جن کا حواس سے ادراک نہیں کیا جاسکتا۔
جواب:جان لیجئے کہ غیر محسوسات میں بھی حسن و جمال موجود ہے۔جیسےکہا جاتا ہے:”یہ خُلقِ حَسن ہے۔ یہ علم حَسن ہے۔ یہ سیرتِ حَسن ہے۔یہ اخلاق اچھے ہیں۔“ اوراچھے اخلاق سے مراد علم، عقل، عِفَّت، شجاعت، تقوٰی،سخاوت،مُرَوَّت اور تمام عُمدہ صِفات ہوتی ہیں اور ان صفات میں سے کچھ ایسی ہیں جن کا ادراک پانچوں ظاہری حواس سے نہیں بلکہ بصیرت کے نور سے کیا جاتا ہے اور یہ تمام عمدہ صفات محبوب ہوتی ہیں اور ان صفات کے ساتھ مُتَّصِف شخص بھی طبعی طور پر اُن کے نزدیک محبوب ہوتا ہے جنہیں اس کی صفات کا علم ہوتا ہے۔ نیزطبعی اور فطری طور پر انسان حضرات انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے محبت کرتا ہے حالانکہ ان میں سے کسی کو دیکھا نہیں ہوتا بلکہ مذاہبِِ اربعہ کے اماموں یعنی امام