Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
229 - 784
ایک مثال:
	مثال کے طور پرجو شخص کہتا ہے کہ روٹی پھل سے بہتر ہے تو اس کامطلب یہی ہوتا ہے کہ یہ (روٹی) مقصود یعنی قوت اور غذا کے اعتبار سے بہترہے اور اس بات کو وہی سمجھے گا جو یہ سمجھتا ہو کہ غذا کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ صحت اور بقا ہے اور غذا کی مختلف تاثیریں ہوتی ہیں اور ہر تاثیر کو سمجھے اور بعض کو بعض پر قیاس کرے۔اسی طرح عبادات دلوں کی غذاہیں اور مقصود دلوں کی شِفا،بقا،آخرت میں ان کی سلامتی، سعادت مندی اور دیدارِالٰہی سے لُطْف اندوزہونا ہے تومقصدِاصلی صرف دیدارِالٰہی کے ذریعے لذتِ سعادت پانا ہےاور دیدارِ باری تعالیٰ سے صرف وہی شخص لطف اندوز ہو سکتا ہے جومحبَّتِ الٰہی اور معرفَتِ الٰہی میں دنیاسے رخصت ہو۔اس سے محبت وہی کرے گا جسے اس ذات کی معرفت حاصل ہو اور اس ذات سے اُنْس اسی کو حاصل ہوتا ہے جو اس کاکثرت سے ذکر کرے ۔
خلاصَۂ کلام:
	انس دوامِ ذِکر سے اور معرفت دوامِ فکر سے حاصل ہوتی ہےاور معرفت کے بعد محبت ضرور ہوا کرتی ہےاور دائمی ذکروفکر کے لئے دل اسی وقت فارغ ہوسکتا ہے جب دنیاوی مشاغل سے خالی ہو اور دنیاوی مشاغل سے اسی وقت خالی ہو سکتا ہے جب دنیاوی خواہشات اس سے جدا ہوجائیں تا کہ وہ خیر کی طرف مائل ہواور اس کا ارادہ کرے، شر سے نفرت وبغض رکھے اور نیکیوں اور عبادات کی طرف میلان اسی وقت ہوتا ہے جب جانتا ہو کہ آخرت میں اس کی سعادت مندی کا دارو مدار انہی چیزوں پر ہے ،جس طرح عقل مند شخص فصد اور پچھنے لگوانے کی طرف اس لئے مائل ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی سلامتی اسی میں ہے۔ جب معرفت کے ذریعے اصْلِ میلان حاصل ہوجاتا ہے تو عمل اور مُواظَبَت(ہمیشگی) کے ذریعے یہ قوی ہوتا ہے کیونکہ صفاتِ قلبی کے تقاضے اور ارادے کے مطابق عمل کرنا ان صفات کے لئے بمنزلہ غذا کے ہے حتّٰی کہ اس وجہ سے صِفَت قوی ہوجاتی ہے۔
ایک مثال:
	مثال کے طور پر جو شخص علم یا ریاست طلب کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے تو ابتدا میں اس کا میلان کمزور