مسلمانوں کے مصالح کے بارے میں غور و فکر کرنے کی نیت کرے تو حدیْثِ پاک کا عموم تقاضا کرتا ہے کہ تفکر کرنے کی نیت نَفْسِ تفکر سے بہتر ہو۔
کبھی یہ گمان ہوتا ہے کہ سبَبِ ترجیح یہ ہے کہ نیت عمل کے آخر تک باقی رہتی ہے جبکہ اعمال میں دوام نہیں ہوتا،یہ بات بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کثیر عمل تھوڑے عمل سے بہتر ہے اور بات ایسے نہیں ہے کیونکہ اعمالِ نماز کی نیت بعض اوقات دائمی نہیں ہوتی صرف چند گنتی کے لمحات تک ہوتی ہے جبکہ اعمالِ نماز میں دوام ہوتا ہے اور حدیْثِ پاک کا عموم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہو۔
بعض اوقات اس کا معنیٰ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ نیَّتِ محض بلانیت عمل سے بہتر ہے اور یہ بات ایسے ہی ہے لیکن اس کا مراد ہونا بعید ہے کیونکہ بغیر نیت یا غفلت کے ساتھ عمل کرنے میں کوئی خیر نہیں جبکہ محض نیت خیر ہے اورترجیح ان چیزوں میں ظاہرہوتی ہے جو اصْلِ خیر میں مشترک ہوں۔
خلاصَۂ کلام:
اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ہر عبادت نیت اور عمل پر مرتب ہوتی ہے تو نیت بھی امورِ خیر میں سے ہے اور عمل بھی لیکن جملہ عبادات میں سے نیت، عمل سے بہتر ہے مطلب یہ کہ دونوں میں سے ہر ایک کی مطلوب میں تاثیر ہوتی ہے اور نیت کی تاثیر عمل کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ،تو حدیْثِ پاک کے معنیٰ یہ ہوئے کہ جملہ عبادات میں سے مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جوخود ایک نیکی ہے۔
حد یْثِ مذکورکا معنیٰ:
مذکورہ فرمانِ مصطفٰے کا معنیٰ یہ ہے کہ بندے کو نیت میں بھی اختیار ہے اور عمل میں بھی اس اعتبار سے یہ دونوں عمل ہیں لیکن ان دونوں میں سے بہتر نیت ہی ہے۔
جہاں تک نیت کے خیر اور عمل پر اس کی ترجیح کا تعلق ہے تو اسے وہی سمجھ سکتا ہے جو مقاصِدِ دِین اور اس کے طریقے کو سمجھتا ہو اور یہ بھی جانتا ہو کہ مقصد تک پہنچنے میں طریق(راستے) کی تاثیر کیا ہوتی ہے اور بعض آثار کو بعض پر قیاس کرے تا کہ مقصود کی طرف نسبت کرتے ہوئے زیادہ راجح اثر ظاہر ہو۔