Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
227 - 784
 دونوں باتیں جمع ہوگئیں تو دونوں نے مل کر دل کو حرکت دی اس قسم کو ہم ’’مُشارَکَت‘‘ کہتے ہیں ۔                       
٭…چوتھی قسم:دونو ں باعثوں میں سے ایک تو مستقل ہو کہ اکیلا بھی کافی ہو اور دوسرا مستقل نہ ہولیکن جب اس کے ساتھ مل جائے تو مدد اور آسانی پیدا کرنے سے خالی نہ ہو۔محسوسات میں اس کی مثال یہ ہے کہ بوجھ اٹھانے میں کمزور شخص کسی طاقتور آدمی کی معاونت کرے کہ اگر طاقتور آدمی اکیلا ہوتا تو بھی اٹھا لیتا اور اگر کمزور شخص اکیلا ہوتا تو نہ اٹھاسکتا ،پھر بھی اس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ کام آسان اور ہلکا ہوجاتا ہے۔ ہمارے موضوع کے مطابق اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی آدمی نماز کا وظیفہ کرنے یا صدقات دینے کا عادی ہو اور اتفاقاً وظیفہ یا صدقہ کرنے کے وقت کچھ لوگ آگئے تو ان کے دیکھنے کی وجہ سے اس پر وہ عمل آسان ہوگیا اور یہ اپنے دل میں جانے کہ اگر تنہا ہوتا توپھر بھی اپنے عمل سے سستی نہ کرتا اور یہ کہ اگر اس کا عمل عبادت نہ ہوتا تو صرف ریا کاری اسے اس کام پر بر انگیختہ نہ کرتی تو اس قسم کی نیت میں کچھ آمیزش ہوجاتی ہے اس قسم کو ہم’’مُعاوَنَت‘‘کہتے ہیں۔
	غرضیکہ دوسرا باعث یا رفیق ہوتا ہے یا شریک یا معین(یعنی مددگار)۔ان کا حکم ہم اخلاص کے باب میں بیان کریں گے اس وقت ہماری غرض نیتوں کی اقسام بیان کرنا ہے کیونکہ جو چیز عمل پراُبھارتی ہے عمل اسی کے تابع ہوتا ہے اور اسی کا حکم تابع پر لگتا ہے اسی لئے فرمایا گیا:’’اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتیعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پرہے۔‘‘(1) کیونکہ یہ تابع ہیں ان(اعمال) کا ذاتی کوئی حکم نہیں ہوتا حکم تو فقط متبوع کا ہوتا ہے۔
تیسری فصل: 		حدیث’’مومن کی نِیَّت اس کے عَمَل سے بہترہے(2)‘‘
کے اَسرارو رُمُوز
	جان لو بعض اوقات یہ گمان ہوتا ہے کہ اس ترجیح کا سبب یہ ہے کہ نیت ایک پوشیدہ چیز ہے جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا جبکہ عمل ظاہر ہوتا ہے اور پوشیدہ عمل کو ایک گونہ فضیلت حاصل ہوتی ہے ۔یہ بات درست ہے لیکن مراد یہ نہیں کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے دل سے ذِکْرُاللہ کرنے کی نیت کرے یا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ،۱/ ۵،حدیث:۱
2…المعجم ا لکبیر،۶/ ۱۸۵،حدیث:۵۹۴۲