علاوہ اٹھ کھڑے ہونے کی اور کوئی نیت نہیں،اسے خالص نیت کہتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کو باعث کی طرف نسبت کرتے ہوئے اخلاص کہتے ہیں معنیٰ اس کا یہ ہے کہ یہ غیر کی مشارکت سے پاک ہے۔
٭…دوسری قسم:دوباعِث مجتمع ہوں لیکن دونو ں میں سے ہر ایک تنہا مستقل باعث ہو۔اس کی مثال محسوسات میں یہ ہے کہ کسی چیزکو اٹھانے کے لئے دو آدمی مل کراتنا زور لگائیں کہ اگر ایک اکیلا اتنا زور لگاتا تو کافی ہوجاتا۔ہماری غرض کے موافق مثال یہ ہے کہ آدمی سے اس کا کوئی رشتہ دارفقیر اپنی حاجت کا سوال کرے اور یہ اس کی حاجت کو اس کے فقر اوررشتہ داری کی وجہ سے پورا کردےاور جانے کہ اگر یہ فقیر نہ ہوتا تو محض رشتہ داری کی وجہ سے اور اگر رشتہ داری نہ ہوتی تومحض فقر کی وجہ سے اس کی حاجت کو پورا کر دیتااوردل میں اس بات کا یقین ہو کہ اگر کوئی غنی رشتہ دار اس کے پاس آئے تو اس کی حاجت بھی پوری کرے گا اور اگر کوئی فقیر اجنبی آئے تو ا س کی حاجت پوری کرنے میں بھی رغبت کرے گا ۔
اسی طرح جس آدمی کو طبیب نے کھانا چھوڑنے کا کہا ہواور عرفہ کا دن آجائے اور وہ روزہ رکھ لے اور جانتا ہو کہ اگر نویں ذو الحجہ کا دن نہ ہوتا تو وہ پرہیز کی وجہ سے کھانا چھوڑ دیتا اور اگر پرہیز نہ ہوتا تو عرفہ کا دن ہونے کی وجہ سے کھانا ترک کردیتا اب دونوں باعث جمع ہوگئے اور اس نے ترکِ طعام کا فعل کر لیا اور دوسرا باعث پہلے کا رفیق ہوگیا اس صورت کو ہم’’مُرَافَقَۃُ الْبَوَاعِث‘‘کہتے ہیں۔
٭…تیسری قسم:ہر ایک انفرادی طور پر مستقل باعث تو نہ ہو لیکن دونو ں مل کر قدرت کو بر انگیختہ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔محسوسات میں اس کی مثال یہ ہے کہ دو کمزور آدمی مل کر کسی چیز کو اٹھائیں کہ ہر ایک انفرادی طور پر اس کو نہ اٹھا سکتا ہو۔ہمارے موضوع کے مطابق اس کی مثال یہ ہے کہ اس کا غنی رشتہ دار اس کے پاس آکر ایک درہم مانگے تو اسے نہ دے اور اجنبی فقیر آکر مانگے تو اسے بھی نہ دے ،پھررشتہ دارفقیرآکر درہم کا سوال کرے تو اسے دے دے اس صورت میں اس کے ارادے کا باعِث قرابت اورفقر دونوں کا مجموعہ ہے۔اسی طرح کوئی شخص لوگوں کے سامنے ثواب اور اپنی تعریف کی غرض سے تومال صدقہ کرتا ہے اس کے برعکس اگر وہ اکیلا ہوتا تو صرف ثواب کا ارادہ اسے خرچ کرنے پر نہ ابھارتا۔اسی طرح اگر مانگنے والا فاسق ہوتا کہ اسے دینے میں ثواب نہ ہو تا تو صرف ریا(دکھاوا)اسے دینے پر برانگیختہ نہ کرتا اور جب